کیا مناظروں سے کبھی کوئی نتیجہ نکلتا ہے؟

مناظرہ، مباحثہ اور نتیجہ خیزی کا سراب

مروجہ مناظروں کے مسائل، ان کی حدود، اور ایک زیادہ نتیجہ خیز ماڈل پر چند گزارشات

احباب وقتاً فوقتاً مناظروں کی بات چھیڑ دیتے ہیں۔ ہمارا موقف اس سے اب بھی کچھ مختلف نہیں جو کوئی دس سال قبل تھا، یعنی بر صغیر کے مناظرے تضیع وقت و توانائی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ جو احباب مناظرےکرنے پر مصر ہوتے ہیں وہ بھی اپنی دلیل میں "درست" اور جائز مناظروں کے حق میں دلائل پیش کرتے ہیں جس پر بحث ہی نہیں۔ اصل معاملہ اس جنگلی اور وحشی ماحول کا ہے جو ہمارے یہاں بد قسمتی سے رواج پا گیا اور اب اس صورت کے علاوہ کوئی دوسری صورت مشکل ہی سے دیکھنے کو ملتی ہے۔

حال ہی میں لندن مناظرے کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی، جو قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین ہوا۔ اس سے قبل وجودِ باری تعالیٰ کے موضوع پر مفتی شمائل ندوی اور جاویدؔ اختر کے مابین ہوا۔ ہر دو مناظرے مجھے بڑے پسند آئے۔

اب آپ کہیں گے بھئی کبھی کہتے ہو مناظرے ٹھیک نہیں کبھی کہتے ہو پسند آئے۔ تو اس کے دو جواب ہیں، ایک جس کے لیے آج یہ تحریر لکھ رہا ہوں اور دوسرا از راہِ تفریح طبع۔

دوسرا والا پہلے سن لیں۔

در اصل جس مناظرے کی میں مخالفت کر رہا ہوں وہ برصغیر میں بدقسمتی سے مروجہ مناظرہ ہے۔ لیکن اگر پھر بھی بالفرض ایسا کوئی مناظرہ بغیر کسی بد مزگی کے ہو گیا تو اس انداز میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسا کبھی دیکھا نہیں۔ پھر اگر بدمزگی کے با وجود ایک فریق کا قرارِ واقعی حق پر ہونا ظاہر ہو جائے تو بھی چسکے ضرور لیے جا سکتے ہیں۔

پہلا، اور اصل جواب یہ کہ جو مناظرے مجھے پسند آ رہے ہیں ان میں تہذیب، شائستگی، کم لوگوں کا بولنا، اور چیخم پکار سے مکمل اجتناب مشترکہ وصف ہے۔

جس طرز کے مناظرے مجھے پسند آئے ان کی مثالیں ذیل میں ہیں:

  1. محمد حجاب اور ڈیوڈ ووڈ
  2. مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر۔ اس میں بھی وقت اور باریاں متعین تھیں اس کے بعد فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا گیا تھا۔
  3. ڈاکٹر ذاکر نائک اور ولیم کیمپبل
  4. احمد دیدات اور جمی سواگارٹ (یا انیس شوروش کے ساتھ مباحثے، یا تصلیب پر فلائیڈ کلارک کے ساتھ)
  5. حسن اللہ یاری کے ساتھ ہونے والے چند حالیہ مذاکرات جو کافی بہتر ماڈریشن اور غیر جانبداری کے ساتھ منظم ہوتے ہیں۔(مثلا مولانا عبد اللطیف صفدرصاحب یا ڈاکٹر حافظ زبیر صاحب)۔ مولانا کے ساتھ کا ڈسکشن فیسبک پرخود انھی کے پیج پر زیادہ بہتر نظر آتا ہے کہ مکمل ہے اور اسکرین پوری نظر آتی ہے۔

چند مذاکرات ایک پاکستانی اداکار کے بھی نظر سے گزرے جس میں بہترین ڈیکورم برقرار رکھا جاتا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے حلقے میں یہ ضبط خصوصا نظر آتا ہے۔

مزے کی بات دیکھیے! ایسا نہیں کہ ہر مناظرے میں گنتی کے لوگ ہوتے ہیں، ایک مجمع بھی ساتھ ہوتا ہے، احمد دیدات، ذاکر نائک، اور کسی حد تک شمائل ندوی والے مناظروں میں یہ چیز صاف نظر آتی ہے، کہ مجمع موجود ہے۔ لیکن سنجیدہ، سول اور بغیر مار پیٹ کے سب چیزیں نمٹ جاتی ہیں۔

پھر کیا وجہ ہے کہ مناظرات مروجہ پاک و ہند میں ان سے بہتر اور کوالیفائڈ مجمع ہونے کے با وجود (کہ ہر دو فریق میں علماء کی بڑی جماعت ہوتی ہے) باستثنائے چند ہر جگہ چیخ و پکار، دھکم پیل یہاں تک کہ مار دھاڑ ہی پر بات ختم ہوتی ہے؟ من حیث المجموع پوری قوم ہی ایسی ہو چلی ہے کیا عوام کیا خواص کہ ضبط و اخلاق، بردباری اور سنجیدگی، سب سے بڑھ کر اخلاص برائے احقاق حق و ابطال باطل مفقود اور تذلیل و تحقیر مد مقابل کی لازم!

یہ سب باتیں ضمنی طور پر سامنے آ گئیں۔ اہم بات جس پر فقیر نے عرصے سے غور کر رکھا ہے اور ان تفکرات کی غوطہ زنی ختم ہو کر نہیں دے رہی، وہ یہ ہے کہ نتیجہ خیز مناظرہ ممکن ہے یا نہیں۔ یا کم از کم عوام کو نتیجے تک پہنچنے میں مدد کرنے کے ذرائع ان ڈائلاگز میں مہیا کیے جاتے ہیں یا نہیں۔ اور میں نے اب تک ایسا نہیں دیکھا۔

اس کے لیے ایک ٹول "کوٹر" میں نے ماضی قریب میں بنایا ہے جس کے ذریعے حوالہ جات کو جمع کرنا اور خوبصورت طرز میں پیش کرنا ممکن ہے۔ یہ خصوصاً آنلائن کنٹینٹ بنانے والوں اور لائیو مباحثے کرنے والوں کے لیے مفید ہوگا کیونکہ اسکرین کے ایک جانب مکمل چھپا کر محض "پریزنٹیشن" کی طرز پر اسے دکھایا جا سکتا ہے۔

اس میں میرا آئیڈیا یہ ہے کہ ماڈریٹر لیول کے لوگ، یا اگر ثالث کا غیر جانبدار ہونا یقینی نہ ہو تو کسی سافٹویئر کے ذریعے خودکار طور پر بذریعہ آرٹیفیشیل انٹیلجنس جاری بحث کو تکنیکی جارگنز میں توڑا جائے، ڈبیٹ، آرگیومنٹ، منطق اور فلسفے کے بنیاد پر مرتب اس فارمیٹ میں ہر فریق کی دلیل لائیو دکھائی جاتی رہے، پھر مخالف فریق نے اگر اسے ایڈریس کیا ہے تو اس کا احاطہ، جو الزامات عائد ہوں ان کا اندراج، پھر نکتہ بہ نکتہ ان کی تکمیل اور آخر میں نقطۂ اختلاف اگر "پوائنٹ آف نو فردر ڈسکشن" یا "اگری ٹو ڈس اگری" تک جا پہنچے جیسا کہ اصول فقہ میں ائمہ اربعہ کے یہاں پایا جاتا ہے توبحث ختم ہو جائے۔

پھر لمبے چوڑے دلائل جب اختصار میں بدل جائیں تو نقطہ اختلاف ڈسکس کرنے کے لیے الگ سے نئے مناظرے کیے جا سکتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ خود مناظرے ہی ٹائم باؤنڈ اور مختصر ہوں، جامع اور پر مغز ہوں، تاکہ عوام اور خود مناظرین کا وقت بچے۔

منہ پر منہ ماری کا جو رواج ہے اس سے ایسی کوفت ہوتی ہے کہ بندہ سوچے مرغوں کی لڑائی ہی کیا بری ہے۔قطع کلامی، سننے کا حوصلہ نہ رکھنا اور ایک دوسرے پر چڑھے جانا،حلق کے بل چیخنا اور بالآخر ذاتیات اور سب و شتم۔

؏

اب بھی دلکش ہے تری چیخ مگر کیا کیجے

وہ مارا کا نعرہ۔ یہ کیوس chaos ہماری ہی قوم کا (برصغیر کا کہہ لیجیے)حصہ کیوں بن گیا ہے؟ ہمارے یہاں (شہرِ سکونت میں) فٹبال کے میچز کا بڑا کریز ہے اور شہر کے کسی بھی کونے میں، اور کسی بھی دن، اور کسی بھی وقت (جی ہاں، بھری دوپہر میں بھی اور پیر کے دن بھی)میچ رکھ لیجیے، میدان تماش بینوں سے کھچاکھچ بھر جائے گا۔مکمل میچ بڑی امن و شانتی اور بھائی چارے کے ساتھ دیکھا جائے گا۔ لیکن جہاں پینالٹی کک آف کی باری آئی، مائیک سے لاکھ چیختے رہیے کہ لوگو جہاں ہیں وہیں رہیے،کون سنتا ہے؟ مجمع اس گول پوسٹ کے گرد سمٹنا شروع ہوجائے گا جدھر پینالٹی ہونی ہے اور آخر کو اکثریت کو پینالٹی دیکھنےسے محرومی ہوگی۔

اختصار پر زور دینے کی نیز دلائل کو منظم فارمیٹ میں پیشِ عوام یپش کرنے کی قید میری ایک اہم وجہ سے ہے، وہ یہ کہ مروجہ مناظرے میں بھاگنے کے بہت راستے ہوتے ہیں۔ آپ کسی مسئلے پر مجھ سے پوچھیں، فریقین کی جانب سے خود ہی جواب اور پھر جواب الجواب دیتا چلا جاؤں گا۔ پھر ایک فریق ہٹ دھرمی پر کس طرح اڑتا ہے اور اسکی عوام کو اس کی ہٹ دھرمی مد مقابل کی شکست اور مسکت جواب لگتی ہے یہ بھی ساتھ ہی مظاہرہ کر دکھاؤں گا۔

یہ راستے آنلائن کلپ کلپ کھیلنے میں بھی ہیں، سامنے بیٹھنے میں بھی ہیں، اور چند اکابر علماء سے بصد احترام اختلاف کرتے ہوئے، تحریری مناظرے میں بھی ہیں۔ کٹ تھرو آل دی ار ریلیونٹ کرنے میں بھی کافی وقت لگتا ہے۔

کیا وجہ ہے کہ مناظرات مروجہ پاک و ہند میں ان سے بہتر اور کوالیفائڈ مجمع ہونے کے با وجود (کہ ہر دو فریق میں علماء کی بڑی جماعت ہوتی ہے) باستثنائے چند ہر جگہ چیخ و پکار، دھکم پیل یہاں تک کہ مار دھاڑ ہی پر بات ختم ہوتی ہے؟ من حیث المجموع پوری قوم ہی ایسی ہو چلی ہے کیا عوام کیا خواص کہ ضبط و اخلاق، بردباری اور سنجیدگی، سب سے بڑھ کر اخلاص برائے احقاق حق و ابطال باطل مفقود اور تذلیل و تحقیر مد مقابل کی لازم!

مقدمہ بہاولپور تین جلدوں میں ہے، پڑھیے۔ مقدمہ سالوں سال چلا ہے، اس میں موجود دلائل اور پھر جواب اور جواب الجواب پڑھتے ہوئے آپ کے ذہن سے کتنی ہی باتیں، دلائل، اصل اور کی آرگیومنٹس محو ہو جائیں گے آپ کو پتہ نہیں چلے گا۔ قبلہ جج صاحب نے تو پھر فیصلہ لکھتے وقت اپنی طرف سے کٹ تھرو کرنے میں بڑا کام کیا، کہ سمجھیں کوئی 2 جلدیں جو اکابر و علماء کے حوالہ جات کی بحثیں تھیں مکمل نظر انداز کیا اور معاملہ قرآن و سنت سے حل فرمایا۔ اچھا ہی کیا۔ اب کوئی تو معیار بنانا ہی پڑے گا۔ اگرچہ وہ ابحاث انتہائی قیمتی ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

یہ تحریری و تقریری مناظروں کا مکس تھا مقدمہ بہاولپور۔ لیکن نتیجہ نکالنے کے لیے دلائل کا ٹریک رکھا گیا تو نتیجہ آیا یا نہیں۔اور اختصار کو بنا بنایا گیا تو بھی فائدہ ہوا یا نہیں۔

اب اسی طرح کوئی بھی دو فریق لے لیجیے اور ان کے اختلافات بھی، کیا مروجہ مناظروں کو اس آبجیکٹیو اور غیر جانبدارانہ طرز پر ترتیب نہیں دیا جا سکتا؟ (اس سے قطع نظر کہ ان 'مسائل' پر گفتگو کا موقع حالاتِ حاضرہ میں ہے بھی یا نہیں) کیا اکثریت عوام کی غیر جانبدارانہ ابحاث کو پسند نہیں کرتی؟

ایک اور رواج ہمارے یہاں مناظروں میں ہے وہ ہے تکنیکی چونچلے بازیاں۔ کون گاڑھی عین سے علمی ہے۔

اب یہاں اہم فرق سمجھیں، ایک ہے اصطلاحات کا ضروری ہونا، اور دوسرا ہے نفس موضوع سے فرار۔ ان میں یہ چونچلے باز خلط ملط کرتے رہتے ہیں کیونکہ یہی انکی پھلجڑی چھوڑنے کا مقصد ہوتا ہے۔

آپ فلسفے کی بحث نہیں کر رہے کہ ہر چیز کی اپیسٹیمالوجی اور پھر بال کی کھال نکالنے پر اتارو ہو جائیں۔ اگر تعریفات موضوع سے متعلق ہیں اور ضروری تو کوئی بات بھی ہو، ورنہ تو مشقِ ستم کے لیے جتنا وقت ہے تھوڑا ہے۔

شکیب احمد

 23 مئی 2026

آغاز بروقت  1:59، ختم 3:17 منٹ دوپہر

مضمون کی معلومات

عنوان: کیا مناظروں سے کبھی کوئی نتیجہ نکلتا ہے؟
ذیلی عنوان: مروجہ مناظروں کی خامیوں، ان کی حدود، اور ایک زیادہ نتیجہ خیز ماڈل پر چند گزارشات
مصنف: شکیب احمد
تاریخِ تحریر: 23 مئی 2026
تاریخِ اشاعت: 17 جون 2026
زمرہ جات: مناظرہ، مباحثہ، مکالمہ، منطق، فلسفہ، علم الکلام
کلیدی الفاظ: مناظرہ، مباحثہ، علمی گفتگو، مکالمہ، نتیجہ خیزی، اختلاف، منطق، فلسفہ، Argument Mapping، Structured Debate، Public Discourse، Debate Framework
مطالعے کا وقت: تقریباً 12–15 منٹ
خلاصہ: یہ مضمون مروجہ مناظروں کی ساختی کمزوریوں، ان کے محدود نتائج، اور ایک ایسے متبادل فریم ورک پر گفتگو کرتا ہے جس سے علمی اختلافات کو زیادہ منظم اور نتیجہ خیز انداز میں پیش کیا جا سکے۔

تبصرے

شکیبؔ احمد

بلاگر | ڈیویلپر | ادیب از کامٹی، الہند

تبصرے کی زینت کے لیے ایڈیٹر استعمال کا طریقہ تفصیل

مشہور اشاعتیں

تازہ نگارشات

میری شاعری

یوٹیوب

نگہِ من - میرا فلسفہ