جمعہ، 17 اپریل، 2020

حریمِ ناز میں ہر دلعزیز ہے کوئی - غزل


To read in English (Roman) and Hindi (Devanagari), click here.


حریمِ ناز میں ہر دلعزیز ہے کوئی
زیادِ رشک سے پھر اشک ریز ہے کوئی
عبث ہی روتے ہیں احباب میرے مرنے پر
وصالِ یار بھی رونے کی چیز ہے کوئی
لباسِ فاخرہ پہنے یہ خوش نما دنیا
برائے اہلِ تصوف کنیز ہے کوئی
ترے جمال کی تابانیوں سے روشن ہو
ہمارے دل پہ جو پردہ دبیز ہے کوئی
دوانہ وار پکارے ہے جو تجھے شب و روز
شکیبؔ نام کا اک بد تمیز ہے کوئی

الفاظ و معانی

1۔ حریمِ ناز: محبوب کا گھر، دوست کی قیام گاہ، شبستان محبوب۔
2۔ زیادِ رشک: رشک کی زیادتی
3۔ اشک ریز: آنسو بہانے والا،اشک بار،اشک فشاں،آبدیدہ
فارسی الاصل ترکیب۔ ”ریز“ اردو میں یائے مجہول کے ساتھ زیادہ مستعمل ہے لیکن اصل فارسی تلفظ یائے معروف کے ساتھ ہے۔ (حوالہ ۱، ۲، ۳)
4۔ عبث: بے فائدہ، بلا وجہ، بے کار
5۔ دبیز: موٹی  (thick)
shakeeb author pic
شکیبؔ احمد از کامٹی، الہند

نام شکیب احمد، وسط ہند سے تعلق ہے... شاعر، ادیب، لیکچرر، اور سافٹویئر انجینئر (وغیرہ) ہوں۔ زندگی میں بس ایک ہی خواہش ہے کہ کچھ ڈھنگ کا کام کر سکوں جو اللہ کے سامنے پیش کرنے لائق ہو۔ باقی آپ جو پوچھنا چاہیں...
مزید پڑھیں ←

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں