ہفتہ، 27 اکتوبر، 2018

شاعر نہیں،اچھے شاعر بنیے (۳)


 گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔(پچھلی قسط یہاں پڑھیں)

٭عیب نمبر ۲۔ قوافی کی غلطیاں:

ہاں جی! تو بات قافیے تک آ ہی پہنچی۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ قافیے کے بغیر شعر کا تصور ہی محال ہے۔ شعر میں ردیف نہ ہو تو بھی شعر ہو سکتا ہے، لیکن قافیے کے بغیر شعر نہیں ہو سکتا۔ لیکن شعراء کرام ان قوافی کے انتخاب میں بھی کئی غلطیاں کرتے ہیں۔ آپ اگر ان غلطیوں سے واقف ہوں گے تو یقیناً اپنے شعر میں ان سے احتراز کریں گے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شعراء خدائی عطا کردہ ”ترازو“ کے ساتھ شعر کہنا شروع کرتے ہیں، یعنی علمِ عروض سیکھتے نہیں اور نہ اس پر کوئی مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ذاتی وجدان کے مطابق شاعری کی جاتی ہے اور اہلِ علم  و ادب کے نزدیک نا قابلِ التفات ٹھہرتی ہے۔

اب خدارا یہ نہ کہیے گا کہ مجھے دوسروں سے کچھ لینا دینا نہیں، میں صرف اپنے لیے شعر کہتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اس پر تو مقالے موجود ہیں کہ ہر تخلیق کار اپنا exposure چاہتا ہے،کسی نہ کسی درجے میں۔ دوسرے یہ کہ بھئی! جب آپ کسی خیال پر محنت کر کے شعر کہہ ہی رہے ہیں، تو کیوں نہ درست کہیں؟

مجھے یاد ہے کہ اردو محفل فورم پر کسی  شاعر نے غلط قافیے باندھے، احباب کے توجہ دلانے پر انہوں نے بشیر بدر صاحب کی اس غزل کو بطورِ سند پیش کر دیا جس میں انہوں نے غلط قوافی باندھے ہیں(ان قوافی میں” ایطا“ کا نقص ہے، ایطا کی بحث آگے آ رہی ہے)۔ اس پر ان کی غلط فہمی رفع کی گئی  کہ بشیر بدر نے بھی اس غزل میں غلط قافیے استعمال کیے ہیں۔ ان کی غلطی آپ کے لیے سند نہیں، بلکہ آپ کی بھی غلطی ،غلطی ہی کہلائے گی اور ان کی بھی۔ اگر آپ بغیر عیوبِ فصاحت کے جانے، مطالعے  اور علم کے بغیر صرف ذاتی وجدان پر اگر بھروسہ کریں گے تو بقول فاتح الدین بشیر فاتح، غلط اور مضحکہ خیز قافیے باندھیں گے۔

ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ

اساتذہ شعراء کی غلطیاں آپ کے لیے سند ہرگز نہیں ہیں۔ آپ یہ نہ سمجھیے کہ اگر ان سے وہ غلطیاں ہوئی ہیں تو وہ غلطیاں جائز ہیں۔ تمام عیوبِ سخن جو بیان کیے جا رہے ہیں، ان میں سے کوئی بھی عیب اساتذہ کے کلام میں بھی ہوگا تو عیب ہی کہلائے گا۔ یہ نہیں کہ میرؔ، غالبؔ  اور آتش کے لیے ترازو اور ہے اور آپ کے لیے اور۔

چند بنیادی اصطلاحات

خیر! تو ہم بات کر رہے تھے قافیوں کی۔

قافیوں کی اغلاط یا عیوب کے ذکر  سے پہلے یہ ضروری ہوگا کہ چند بنیادی باتیں اور اصطلاحات متعارف کرا دی جائیں۔ ہو سکتا ہے ان سے آپ پہلے سے واقف ہوں، پھر بھی دہرا لیا جائے تو کیا حرج ہے۔


  • دو الفاظ اس وقت ہم قافیہ کہلائیں گے جب ان میں صوتی مشابہت ہو۔ مثلاً اگر، بدر، اثر، جگر وغیرہ۔
  • قافیہ کی جمع قوافی/ قافیے یا قافیوں ہے۔
  • عربی اشعار میں ردیف نہیں ہوتی، صرف قوافی ہوتے ہیں۔ فارسی اور اردو اشعار میں ردیف ہوتی ہے، لیکن اس کا استعمال کرنا یا نہ کرنا شاعر کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔ ردیف سے مضمون کچھ تنگ ہو جاتا ہے، چنانچہ جہاں اظہارِ خیال میں رکاوٹ پیش آئے، وہاں صرف قوافی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ایسا کلام جس میں صرف قافیے ہوں، ردیف نہ ہو، ”غیر مردف“ کہلاتا ہے۔
  • واضح رہے کہ ردیف کا استعمال اختیاری ہے، لیکن قافیے کے بغیر شعر نہیں ہو سکتا۔

کچھ لوگوں نے پورے کلمہ کو اور بعض نے صرف حرفِ ”روی“ کو قافیہ مانا ہے۔  حرفِ روی وہ حرف ہے جس پر قافیہ کی بنیاد ہوتی ہے۔ مثلاً  بدر، اثر، جگر میں ”ر“۔ حرفِ روی کو مختصراً صرف ”روی“ بھی کہہ دیا جاتا ہے، مراد اس سے ”حرفِ روی“ ہی ہوتی ہے۔ قافیے کا پورا کھیل حرفِ روی ہی پر منحصر ہے، اور جس نے روی  اور اس کی جزئیات پر عبور حاصل کر لیا، وہ یوں سمجھیں کہ  قافیے کا عالم ہو گیا۔

ذیل میں قافیے کے عیوب دیکھیں۔ کتابوں میں ہر عیب کے لیے بھاری بھرکم اور ثقیل اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ علمِ عروض کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ اس میں  اصطلاحات کی بھرمار ہے۔  اور بقول کمال احمد صدیقی، عروضی تو گاڑھی عین سے عروضی ہوتا ہے، بغیر اصطلاحات اچھالے اس کا ایک نوالہ بھی ہضم نہیں ہوتا۔ چونکہ نہ میں عروضی ہوں، نہ آپ ہیں۔ چنانچہ اپنی توجہ صرف بات سمجھنے پر رکھیں گے۔ البتہ ہر ایک کے ساتھ ان کی اصطلاح بھی صرف اس لیے لکھ رہا ہوں کہ کوئی ”گاڑھی عین“ والا عروضی اور ”گاڑھے قاف“ والا قافیہ دان آپ پر رعب نہ ڈال سکے۔

٭قوافی کا عیب نمبر۱۔ ایطا:

ایطا کو سب سے پہلے ذکر کرنے کا سبب اس کی ”شہرت“ ہے۔ جی ہاں! یہ عیب بہت مشہور ہے، اور اب تو اس قدر مشہور ہے کہ آپ یہ غلطی کرتے ہی ان شاء اللہ پکڑے جائیں گے۔ جی مسکرائیے! لیکن حقیقت یہی ہے۔  ویسے حقیقت تو یہ بھی ہے کہ یہ  آپ کے ساتھیوں کی ”ٹائپ“ پر منحصر ہے، آیا  وہ آپ کی اصلاح کرتے ہیں یا نہیں۔ ورنہ  تو بس کمپیوٹر پر دو مصرع برابر برابر لکھیں، کسی Image editor میں اس کے بیک گراؤنڈ پر ایک عدد لڑکی چسپاں کر دیں(لڑکی مغموم ہو تو اور بھی اچھا ہے)اور سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں۔ بس پھر آپ کا ”شعر“ ہوگا اور آپ کے عزیز دوستوں کی داد کے ڈونگرے ہوں گے۔

تفنن برطرف، آپ اس نام نہاد داد کے چکر میں پڑ گئے تو سمجھیں آپ کا فن مٹی میں ملنے کا اچھا خاصا انتظام ہو گیا ہے ۔ اس لیے  ہمیشہ اہلِ علم حضرات سے تعلق رکھیں اور وقتاً فوقتاً ان سے مشورہ کرتے رہا کریں۔ سب سے اچھا تو یہ ہوگا کہ کوئی استاد ڈھونڈیں جو معائب اور محاسنِ سخن سے واقف ہو، جمالیات جانتا ہو(یہ نہیں کہ بس الفاظ کے عیوب دور کر دیے اور خیالات بے ڈھنگے اور بکواس ہی رہنے دیے) اور اس کا خیال آپ سے ملتا ہو۔ استادی اور شاگردی کی رسم بھی ہمارے یہاں ناپید ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ آج کل  اپنے کلام پر اصلاح لینے کو اپنی ”توہین“ سمجھا جاتا ہے ۔

خیر، جذباتی نہ ہوں! آنسو آ گئے ہوں تو پونچھ لیں۔ ہمارا کون استاد ہو سکتا ہے بھئی! کبھی نہیں، ہم تو خود استاد ہیں۔ بلکہ استاذ الاساتذہ ہیں۔ غالبؔ جیسے اشعار تو نیند میں بھی کہہ لیتے ہیں۔ چنانچہ استادی اور شاگردی کے اس چکر کو چھوڑتے ہیں  اور یہ سمجھتے ہیں کہ ایطا کیا ہے،  ورنہ ہماری استادی کا راز فاش ہو جائے گا۔
ایطا کی دو قسمیں ہیں:




  1. ایطائے جلی
  2. ایطائے خفی
عموماً ایطا بحث میں سارا زور ایطائے جلی پر ہوتا ہے کیونکہ یہ بڑا عیب ہے۔ اس لیے ادبی حلقوں میں اسے "جلی" کی پخ لگائے بغیر صرف "ایطا" بھی کہا جاتا ہے۔

ایطائے جلی کیا ہے؟

مرزا یاسؔ کے لفظوں میں ”ایطا کہتے ہیں قافیوں میں کلمۂ آخر (متحد المعنی) کی تکرار کو۔ یعنی اگر اس کلمۂ متحد المعنی کو اگر قافیوں سے الگ کر ڈالیں تو جو کچھ باقی رہے وہ الفاظ با معنی ہوں مگر ان میں حرفِ روی قائم نہ ہو سکے۔“

نہیں سمجھے؟ جی کوئی بات نہیں۔ ابھی سمجھ میں آ جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر  آپ یہ  دو قافیے دیکھیں: ”دردمند “اور ”حاجتمند“۔ ان میں آخری کلمہ ”مند“ دونوں جگہ ہے، اور دونوں جگہ اس کے معنی بھی ایک ہیں۔ اس کلمہ ”مند“ کو اگر دونوں قوافی میں سے نکال دیا جائے تو ”درد“ اور ”حاجت“ باقی رہتے ہیں، جو (۱)با معنی الفاظ ہیں اور(۲) ہم قافیہ نہیں ہیں( ان میں روی مشترک نہیں ہے۔) چنانچہ دردمند اور حاجتمند میں ”ایطا“ کا عیب ہے۔

حرفِ روی کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ یہاں ”درد“ کا روی ”د“ اور حاجت کا روی ”ت“ ہے۔ روی کا فوری تعین کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ  قافیے میں سے زوائد کو نکال دیں، یہاں تک کہ قافیہ کا اصل باقی بچ جائے۔ اگر قافیہ فعل ہو، تو اسے امر (حکمOrder)بنا دیں۔ مثلاً چلنا سے چل۔ اب آخری حرف روی ہوگا۔ یعنی چلنا میں حرفِ روی ”ل“ ہے۔ یہ قافیے کی بحث ہے، لیکن ایطا کے پہچاننے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
ایطا پر واپس آتے ہیں۔ آپ جان چکے ہیں کہ  قافیوں کا کلمۂ آخر جو معنی میں بھی ایک ہو، نکال دینے پر جو اصلی الفاظ باقی بچیں، وہ اور قافیوں کے خلاف ہو جائیں تو یہ ایطا کہلاتا ہے۔  مثلاً ایک غزل میں  یوں مطلع کہا گیا:

یہ تو نہیں انسان جفا گر نہیں ہوتا

تم سا بھی مگر کوئی ستم گر نہیں ہوتا

اس میں ”گر“ دونوں جگہ فاعل(کرنے والا) کے معنی میں ہے۔(جفا گر=جفا کرنے والا، ستم گر = ستم کرنے والا)اب ”گر“ جو زائد حصہ ہے، دونوں قافیوں سے نکال دیا جائے تو ”ستم“ اور ”جفا“ باقی رہتا ہے جو با معنی الفاظ ہیں اور  ہم قافیہ نہیں ہیں۔ اس لیے مطلع کے اس شعر میں ایطا ہو گیا۔

غور کریں کہ بھلا ایطا میں کلمۂ زائد کے ”متحد المعنی“ ہونے کی قید کیوں لگائی گئی ہے؟ جی کیا کہا؟ بالکل درست! یہ در اصل یہ جانچنے کے لیے پیمانہ ہے کہ آیا مستعمل ترکیب میں ”روی“ اصلی ہے یا نہیں۔ یہاں جفا گر اور ستمگر میں روی ”ر“ ہے، اور دونوں جگہ اصلی نہیں ہے(کیونکہ دو علیحدہ  لفظوں سے مرکب ہے)۔ اگر قافیہ ہوتا ”جگر“ یا ”قمر“ وغیرہ، تو ان میں حرف روی ”ر“ اصلی ہے۔

ایطا کی آسان پہچان

آپ کی آسانی کے لیے ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں۔ سیماب اکبر آبادی نے ایطا کی پہچان آسان کرنے کے لیے یوں لکھا ہے۔

”ایطا کی ایک پہچان یہ ہے کہ روی حذف کرنے کے بعد اگر لفظ با معنی رہے تو ایطا ہے ورنہ نہیں۔“

لیجیے جناب! آسان سا فارمولا ہے۔ ویسے یاد رہے کہ حرفِ روی جب اصلی ہوگا، تبھی روی حذف کر کے جانچیے گا۔ اگر روی اصلی نہیں ہے تو پورے کلمۂ زائد کو حذف کیجیے، اور دیکھیے کہ بقیہ بچے الفاظ با معنی ہیں تو ایطا ہے۔ ایک لفظ بھی اگر بے معنی ہے، تو ایطا نہیں ہے۔ جفا گر اور ستم گر میں چونکہ روی (ر)اصلی نہیں تھا، اس لیے پورے کلمۂ زائد یعنی ”گر“ کو حذف کر کے ”جفا“ اور ”ستم“ کو پرکھا گیا، جو با معنی تھے۔ چنانچہ ایطا واقع ہوا۔

یہ تو ظاہر ہی ہے کہ زائد کلمہ کو حذف کرنے کے بعد اگر بچے ہوئے الفاظ  (بھلے ہی ہم معنی ہوں)ہم قافیہ  رہ جائیں، تو ایطا نہیں ہوگا۔ مثلاً ”کہنا“ اور ”رہنا“ میں سے زوائد(یعنی ”نا“ جو علامتِ مصدر ہے) نکال دیں تو ”کہہ“ اور ”رہ“ بچتے ہیں جو با معنی تو ہیں، لیکن ”ہم قافیہ“ بھی ہیں۔ یا بالفاظ یاسؔ، ان میں روی کا تعین بھی ہو رہا ہے، تو ایطا نہیں ہوگا۔

بور ہو گئے؟

اب تک کی بحث ہو سکتا ہے آپ کو ٹھیک ٹھاک خشک محسوس ہوئی ہو، لیکن انہی میں اصل بات چھپی ہے۔ ہو سکتا ہے اب بھی آپ ایطا کے متعلق شش و پنچ میں ہوں، یا کوئی بات سمجھ نہیں پائے ہوں۔ اس میں بھی  پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ بے فکر رہیں!  آگے دی گئی مثالوں سے ان شاء اللہ آپ بات پوری طرح سمجھ جائیں گے۔ ہر مثال کے ساتھ اس کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔

ایطائے جلی کی مثالیں

مثال۱۔ وصیؔ شاہ کافی مشہور شاعر ہیں، جو نوجوان نسل کا Craze کہلاتے ہیں۔ ٹین ایجرز ان کی شاعری کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ یہ تعارف خالصتاً بطور تعارف ہی ہے۔  اس میں ہرگز کوئی طنز یا تضحیک کا پہلو نہ ڈھونڈنے بیٹھ جائیے گا کہ ان کی شاعری میں عیب دکھا رہا ہے تو یقیناً خود کو ”کچھ سمجھ رہا ہوگا“۔ ابھی تو میرؔ، غالبؔ، آتشؔ وغیرہ کے اشعار بھی آئیں گے۔ تب ان کا تعارف تو کرانے سے رہا، تب آپ سوچیں گے کہ میر و غالب سے آگے بڑھ رہا ہے۔ لاحول ولا قوۃ۔ 

خیر، وصیؔ شاہ کے پہلے شعری مجموعے ”آنکھیں بھیگ جاتی ہیں“ کے صفحہ ۱۹ پر غزل ہے۔ مطلع یوں ہے:

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

اس میں ایطا کا نقص ہے۔

وضاحت:

غزل کی ردیف ہے ”ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں“۔ مطلع میں موجود دو قوافی ”اترتا“ اور ”پڑھتا“ ہیں، جس میں حرف روی الف غیر اصلی ہے۔ چنانچہ زوائد(یعنی ”تا“)کو نکال دیں تو ”اتر“ اور ”پڑھ“ بچتا ہے، یا جیسا کہ اوپر ایک آسان اصول میں نے بتایا، اگر قوافی ”فعل“ ہیں، تو انہیں ”امر“ یعنی حکم بنا دیں، یعنی ”اترتا“ سے ”اتر“ اور ”پڑھتا“ سے ”پڑھ“، چونکہ ”اتر“ اور ”پڑھ “
(۱)با معنی الفاظ ہیں
(۲) ہم قافیہ نہیں ہیں(حرفِ روی متعین نہیں)

چنانچہ اس میں ایطا کا نقص ہے۔

وصیؔ شاہ کی اس غزل کے دیگر قوافی یہ ہیں:

 لکھتا، سلگتا، لگتا، کرتا، پڑھتا، رکھتا، تکتا، گزرتا، ہنستا

ان تمام میں کلمۂ آخر متحد المعنی(اب میرا خیال ہے آپ اصطلاحات ہضم کرنے کے لائق ہو گئے ہوں گے) ”تا“ ہے۔ چنانچہ بقیہ بچنے والے الفاظ ہیں:

 لکھ، سلگ، لگ، کر، پڑھ، رکھ، تک، گزر، ہنس

مطلع سے دیکھیں، تو ”اتر، کر، گزر“ اور ”سلگ، لگ“  درست قوافی ہو سکتے تھے۔ چنانچہ اس غزل میں اگر ”اترتا، کرتا، گزرتا“ وغیرہ قوافی استعمال کیے جاتے تو غزل سے ایطا کا نقص دور ہوتا، اس صورت میں بقیہ تمام قوافی بے کار ٹھہرتے ہیں اور ان تمام اشعار کو  دوسری کسی غزل میں جگہ دی جا سکتی ہے جن کے قوافی ان سے match ہوتے ہوں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ وصیؔ کے اس شعری مجموعے کا نام اسی غزل کی ردیف ”آنکھیں بھیگ جاتی ہیں“ ہے۔ یعنی یہ  کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ یہ اپنے کلام میں سے وصی شاہ کا ”انتخاب“ ہے۔ کتاب کے شروع میں ”عباس تابش“ نے کچھ صفحات لکھ کر گویا تصدیق کی مہر ثبت کی ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ ان کی نظروں سے سارا کلام گزرا ہو گا، لیکن گیہوں کے ساتھ گھن تو پیسا ہی جاتا ہے۔ انہی بنیادوں کی بنا پر  شاعر کے مقام کا تعین ہوتا ہے۔

    مثال ۲۔ وصیؔ کے اسی مجموعے کے ص ۵۵ کی غزل کا  مطلع یوں ہے:

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی

یہاں دونوں قوافی درست ہیں۔ کیونکہ ”نا“ نکال دینے پر بچنے والے الفاظ کہہ اور سہ، ہم قافیہ ہیں۔  لیکن اگلا شعر کچھ یوں ہے:

ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا

مرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی

یہاں قافیہ ”دینا“ کی وجہ سے ایطا کا نقص ہے۔ مزید یہ کہ غزل کے دیگر  تمام قوافی بھی ایطا کا شکار ہیں۔ صرف ان دو اشعار کو چھوڑ کر جن میں قافیہ ”کہنا“ پھر سے استعمال ہوا ہے۔

وضاحت:

غزل کی ردیف ہے ” محبت مر نہیں سکتی “۔ مطلع میں موجود دو قوافی ”سہنا“ اور ”کہنا“ ہیں،  جس میں حرف روی الف غیر اصلی ہے۔ چنانچہ زوائد(یعنی ”نا“)کو نکال دیں تو ”کہہ“ اور ”سہ“ بچتا ہے جو (۱)با معنی الفاظ ہیں  اور(۲) ہم قافیہ ہیں(حرفِ روی ”ہ“)

چنانچہ مطلع  میں ایطا کا نقص نہیں ہے۔

لیکن اس کے بعد والے شعر میں استعمال کیا گیا قافیہ ”دینا“ میں سے ”نا“(جو کلمۂ آخر متحد المعنی ہے، دونوں جگہ ایک ہی معنی بطور مصدر آیا ہے) نکالنے پر ”دے“ بچتا ہے جو(۱) بامعنی لفظ ہے (۲) مطلع میں طے شدہ قافیوں کے زوائد نکالنے پر بچنے والے الفاظ(کہہ، سہ) سے ہم قافیہ نہیں ہے۔ (کہہ، سہ اور ”دے“)

چنانچہ اس دوسرے شعر میں ایطا کا نقص ہے۔

وصیؔ شاہ کی اس غزل کے دیگر قوافی یہ ہیں:

مرنا، کھلنا، لکھنا (باقی قافیے(دینا اور کہنا) مکرر استعمال ہوئے ہیں)

ان تمام میں کلمۂ آخر متحد المعنی ”نا“ ہے۔ چنانچہ بقیہ بچنے والے الفاظ ہیں:

مر، کھل، لکھ

اس غزل میں تقریباً تمام ہی قوافی غلط ہیں۔ صرف دو اشعار درست قرار پاتے ہیں۔ جن دونوں  کے قافیے ”کہنا“ ہیں۔ یعنی پوری غزل میں صرف دو قافیے ”سہنا“ اور ”کہنا“ درست استعمال کیے گئے ہیں۔

    مثال ۳۔ وصیؔ کا دوسرا شعری مجموعہ ”مجھے صندل کر دو“ کے ص۱۲۱ پر یہ اشعار ملاحظہ ہوں:

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں

مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی
جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں

وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا تھا
میں ڈھونڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں

یہاں دوسرے اور تیسرے شعر میں ایطا کا عیب ہے۔

وضاحت:

دوسرے اور تیسرے شعر کے قوافی دیکھیں۔ چونکہ قافیے کی بنیاد مطلع میں پڑ چکی ہوتی ہے، آپ مطلع میں یہ قافیے دیکھ رہے ہیں۔

تلخیوں، اداسیوں

دونوں کے کلمۂ آخر متحد المعنی(وں، جو جمع بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے) کو نکال دیں تو ”تلخی“ اور ”اداسی“ بچتا ہے جو ہم قافیہ ہیں اور اس میں ایطا کا عیب نہیں ہے۔ یعنی مطلع درست ہے۔

اس کے برخلاف دوسرے اور تیسرے شعر میں ”دھڑکنوں “اور ”شرارتوں“ قافیے استعمال ہوئے ہیں۔ اس میں سے کلمۂ آخر حذف کر دیں تو ”دھڑکن“ اور ”شرارت“ بچتا ہے جو

    (۱) با معنی الفاظ ہیں۔

    (۲) تلخی، اداسی(قافیے جو مطلع میں طے ہوئے تھے، زوائد حذف کرنے کے بعد) اور دھڑکن، شرارت ہم قافیہ الفاظ نہیں ہیں، اس لیے ان دو اشعار میں ایطا ہے۔

اس غزل کے بقیہ تمام قوافی درست ہیں، چنانچہ اگر مطلع کے بعد والے دو اشعار نکال دیے جائیں تو غزل میں ایطا نہیں رہتا۔ بقیہ قوافی ملاحظہ ہوں۔

تسلیوں، ہتھیلیوں، کہانیوں، آندھیوں، اداسیوں(تسلی، ہتھیلی، کہانی، آندھی، اداسی)

یہ تمام ہم قافیہ ہیں، جن میں حرفِ روی ”ی“ ہے۔ چنانچہ ان میں ایطا نہیں ہے۔

    مثال ۴۔امید کرتا ہوں کہ  اب تک آپ کافی حد تک سمجھ چکے ہوں گے، چنانچہ اب زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ کہیں پریشانی ہو تو ضرور  مجھے مطلع فرمائیے گا۔

 آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ص ۹۸ پر یہ شعر

اب تری ذات سے منسوب ہیں سانسیں اس کی
اور کھلتی ہیں ترے قرب میں بانہیں اس کی

ردیف: اس کی

قوافی: سانسیں، بانہیں

زوائد: یں(کلمۂ آخر ہے، دونوں جگہ جمع بنانے کے لیے استعمال ہوا ہے)

زوائد حذف کرنے پر: سانس، بانہہ

چونکہ سانس اور بانہہ، دونوں (۱)با معنی الفاظ ہیں۔ (۲)ہم قافیہ نہیں ہیں(روی ”س“ اور ”ہ“) اس لیے یہاں ایطا کا نقص ہے۔

مثال ۵۔ ایضاً ص۵۰ ، صرف ایک شعر ایطا کا شکار ہے، ایطا کی نشاندہی کے لیے وہ شعر مطلع کے ساتھ درج کرتا ہوں۔

میری آنکھوں میں آنسو پگھلتا رہا، چاند جلتا رہا
تیری یادوں کا سورج نکلتا رہا، چاند جلتا رہا

یہ دسمبر کہ جس میں کڑی دھوپ بھی میٹھی لگنے لگے
تم نہیں تو دسمبر سلگتا رہا، چاند جلتا رہا

دوسرا شعر ایطا کا شکار ہے۔

وضاحت:

ردیف: رہا چاند جلتا رہا

قوافی: پگھلتا، نکلتا، سلگتا

زوائد: تا(کلمۂ آخر متحد المعنی)

زوائد حذف کرنے پر: پگھل، نکل، سلگ

پگھل اور نکل تو ہم قافیہ الفاظ ہیں لیکن چونکہ سلگ اور پگھل، نکل ہم قافیہ نہیں ہیں(روی ”گ“ اور ”ل“) اس لیے دوسرے شعر میں ایطا کا نقص ہے۔

دیگر قوافی: بدلتا، چلتا، نکلتا، ابلتا، ملتا، ڈھلتا(بدل، چل، نکل، ابل، مل، ڈھل)

ان تمام میں حرف روی یعنی ”ل“ قائم ہے، چنانچہ ایطا نہیں ہے اور باقی تمام  قوافی درست ہیں۔

واضح رہے کہ حرف روی(جو یہاں ل ہے)کے پہلے کی حرکت تمام قوافی میں ”زبر“ ہے۔ اگر حرکت ما قبل روی بدل جائے تو قافیہ غلط ہو جائے گا۔ مثلاً بدلتا، چلتا(بدل، چل) وغیرہ کے ساتھ ”گھُلتا“(گھُل) قافیہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہاں روی سے پہلے یعنی ”گھ“ پر ”پیش“ کی حرکت ہے۔ اس کی تفصیل آگے ”قوافی کا عیب نمبر ۳“ پر آ رہی ہے۔

مثال ۶۔ حفیظؔ جونپوری کا شعر

دل دیا اس کو جسے دل سے قدر داں دیکھا

اسی کے ہو رہے جس کو مزاج داں دیکھا

یہ  شعر ایطا کا شکار ہے۔

وضاحت:

ردیف: دیکھا

قوافی: قدر داں، مزاج داں

زوائد: داں(کلمۂ آخر متحد المعنی)

زوائد حذف کرنے پر: قدر، مزاج

قدر اور  مزاج  (۱) با معنی الفاظ ہیں۔ (۲)ہم قافیہ نہیں ہیں(روی ”ر“ اور ”ج“) اس لیے اس  شعر میں ایطا کا نقص ہے۔

مثال ٧. پروین شاکر کی مشہور غزل ہے جس کا مطلع ہے:

عکسِ خوشبو ہوں،بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بِکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

اس غزل میں ایطا کا نقص ہے.

وضاحت:
قوافی: روکے، سمیٹے، لے، بکھرے، رکھے، جھانکے، آئے
ردیف: کوئی
قوافی میں 'ے' بطور روی غیر اصلی استعمال کیا گیا ہے۔ قافیے اگر فعل ہوں تو ان کا مصدر روی کا تعین کرتا ہے۔ مصدر کے لیے فعل کا صیغہء امر بنا دیا جائے تو روی با آسانی معلوم ہو سکتا ہے۔ چنانچہ زوائد حذف کرنے پر قوافی یوں ہوں گے
روک، سمیٹ، لے، بکھر، رکھ، جھانک، آ
جن میں روی کا اتحاد نہیں، چنانچہ یہ قافیے درست نہیں ہیں۔​

یہ سب ایطاء جلی کی مثالیں ہیں۔
(جاری)
shakeeb author pic
شکیبؔ احمد از کامٹی، الہند

نام شکیب احمد، وسط ہند سے تعلق ہے... شاعر، ادیب، لیکچرر، اور سافٹویئر انجینئر (وغیرہ) ہوں۔ زندگی میں بس ایک ہی خواہش ہے کہ کچھ ڈھنگ کا کام کر سکوں جو اللہ کے سامنے پیش کرنے لائق ہو۔ باقی آپ جو پوچھنا چاہیں...
مزید پڑھیں ←

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں