منگل، 14 اگست، 2018

شاعر نہیں، اچھے شاعر بنیے (۱)


ازراہ تفنن

اچھا جی! تو آپ کو بھی شاعری کا شوق ہے۔ بہت اچھی بات ہے۔ ویسے   آج کل  تو شاعر ہونے کے لیے  بس اتنا ہی کافی ہے کہ ہمارے  ذہن میں خیالات کی آمد ہو رہی ہو، بھلے ہی عروض کی کوئی شد بد نہ ہو۔ کون فاعلن اور مفاعیلن کی گردان کرے اور ہر مصرع پر وزن جانچنے کے لیے ”ترازو“ فٹ کرتا پھرے۔ ہم  تو بھئی شاعری کریں گے اور خوب کریں گے۔
جی کیا کہا؟ آپ بحر و وزن جانتے ہیں، آپ کو کلامِ موزوں اور غیر موزوں میں فرق کرنا  آتا ہے۔ واہ بھئی! تب تو آپ صفحات سیاہ کریں، اور دواوین کے ڈھیر لگاتے چلے جائیں۔  آپ کو لکھنے کا پورا حق ہے اور اس حق سے آپ کو کوئی محروم نہیں کر سکتا۔

پند و نصائح

خیر، تفنن برطرف! کہنے کی بات یہ ہے کہ  در اصل شاعری صرف افاعیل کی سوجھ بوجھ کا نام بھی نہیں!

شاعری مانگتی ہے خونِ جگر
شعر ملتا نہیں وراثت میں

اکثر شعراء خدائی عطا کردہ ”ترازو“ سے شعر کو موزوں رکھتے ہیں، اور محض اسے ہی کافی سمجھتے ہیں۔ لیکن در اصل شعر کا صرف موزوں ہونا ہی کافی نہیں ہوتا۔ جی نہیں! میں جمالیات کی جانب اشارہ نہیں کر رہا۔ وہ تو بعد کی بات ہے۔ شعر کے موزوں ہونے کے بعد اس میں فنی اعتبار سے کئی عیوب ہوتے ہیں۔ جب تک  ان عیوب میں سے کوئی بھی عیب آپ کے کلام میں ہے، وہ کلام ناقص رہے گا۔

آج کل لکھنے سے پہلے مطالعہ کرنا آؤٹ آف فیشن Out of fashion سمجھا جانے لگا ہے۔ خصوصاً شاعری کے سلسلے میں لوگ بڑی غلطیاں کرتے ہیں۔ پہلے زمانے میں اساتذہ مشاعروں کے درمیان مبتدیوں کی اصلاح کر دیا کرتے تھے۔ آج کل لوگ خدا جانے اصلاح کرنے والوں سے کیوں خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اپنے کلام پر اساتذہ کی اصلاح لینے سے ہمارے مرتبے پر فرق آتا ہے(شان گھٹ جاتی ہے کہہ لیں) ہاں! یہ البتہ ضرور ہوتا ہے کہ غیر اصلاح شدہ کلام نکتہ چینی اور تنقید کا نشانہ ضرور بنتا ہے۔

معائبِ سخن یا عیوبِ سخن اور محاسنِ سخن سے واقفیت نہ صرف ہماری شاعری کو نکھارتی ہے، بلکہ ہمیں اپنے شعر کو ”قلم زد“ کرنے کے دردناک تجربے سے بھی بچاتی ہے۔ ان معائب سے اپنے کلام کو پاک رکھیں، ان شاء اللہ  عیب کی حد تک کوئی انگلی اٹھانے والا نہیں ہوگا۔ رہی بات تخیل ، محاکات اور جمالیات کی، تو وہ ریاضت اور کسی استاد کی سرپرستی  ہی سے حاصل ہوتا ہے۔

نچوڑ

اوپر کی باتوں سے اچھا شاعر بننے کے لیے دو نکتے کشید کیے جا سکتے ہیں:
  1. شاعری کو فنی غلطیوں سے پاک کرنا
  2. جمالیات اور محاکات سے مزین کرنا (جو مشق اور اساتذہ کی اصلاح کا متقاضی ہے)
اس تمہید کا مقصد فقط اتنا تھا کہ آپ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ صرف موزوں کلام کہنے سے آپ کا کلام معیار بن جائے گا تو یہ خیال اپنے ذہن سے جھٹک دیجیے۔ وزن کی تو بات ہی چھوڑیے، کہ اس کے بغیر شعر، شعر ہی نہیں ہوتا۔ لیکن وزن کے علاوہ اشعار میں جو عیوب ہوتے ہیں ان سے بھی کلی احتراز ضروری ہے۔  ان عیوب سے آپ کو روشناس کرانا ہی  اس تحریر کی غایت ہے۔ اس میں میری کوشش رہے گی کہ عیوب کو ان کے عیب کی شدت اور کثرتِ  استعمال کی  ترتیب سے بیان کروں ۔ حتی الامکان کوشش ہوگی کہ زبان سلیس ہو، تاکہ عوام اور خواص، دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہو سکے۔

اور ایک بات کے لیے معاف کیجیے گا، میں نے ”شاعری“ کے عیوب درج کیے ہیں، چنانچہ  ”بے وزن“ شاعری کو عیب میں شامل نہیں کیا کیونکہ بحور  سے آزاد شاعری (مثلاً نثری نظم) کو میں شاعری ہی نہیں سمجھتا۔

٭عیب نمبر۱۔ تخالف:

اہلِ لغت کے خلاف لکھنا تخالف کہلاتا ہے۔ آسانی کے لیے آپ اسے ”تلفظ اور املا کی غلطی“ کہہ سکتے ہیں۔ شاعری کے تناظر میں کہا جائے تو شعر میں کسی لفظ کو غلط تلفظ کے ساتھ باندھنا تخالف کہلائے گا۔

مثال:  قسم کو قَسم(س ساکن) ، وجہ کو وَجَہ(ج مفتوح)، زِیادہ کو زادہ وغیرہ۔

سچ بتاؤں تو  میری ناقص رائے میں اس عیب کا نام رکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیے تھی کہ یہ تو صراحتاً غلط اور واضح طور پر شاعر کی الفاظ سے ناواقفیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اگر آپ شعر میں کوئی ایسا لفظ استعمال کر رہے ہوں جس کے تلفظ کے بارے میں آپ پر یقین نہیں ہیں، تو اس کا درست تلفظ دیکھنے کے لیے لغت دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ 
مثلاً لفظ ”وزن“ بالعموم ز مفتوح کے ساتھ بولا جاتا ہے(یعنی فعو کے وزن پر) جبکہ در اصل ز ساکن ہے اور یہ بر وزن ”فعل“(یا ”فاع “)ہے۔

تلفظ کی غلطیوں کا نتیجہ

اس ضمن میں درحقیقت ایک سنگین غلطی کی طرف چند مثالوں کی مدد سے اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔

آپ کبھی غور کیجیے تو یقیناً میری اس بات سے متفق ہوں گے کہ لفظ کا  درست تلفظ  شعر کے ذریعے بہت جلد واضح ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ قاری کے ذہن میں آئندہ کے لیے محفوظ بھی ہو جاتا ہے(شعر جو ہوا )۔ اب یہ سنگین غلطی کیسے ہے، وہ سمجھنے سے قبل چند مثالیں دیکھ لیں جن میں الفاظ غلط تلفظ کے ساتھ باندھے گئے ہیں۔چند مثالوں سے آپ بات واضح طور پر سمجھ جائیں گے۔

۱۔  مثال کے طور پر اگر آپ نے لفظ ”معاف“ کو شعر میں استعمال کیا ہے۔ غلط اور صحیح دونوں مصرع میں نے سمجھانے کے لیے گھڑے ہیں۔

غلط استعمال

آخری بار مجھے معاف کرو

فاعلاتن فعلاتن فعلن

(یہاں معاف غلط تلفظ کے ساتھ ہے۔ مُعاف(=ماف) =فاع)

صحیح استعمال

خطائیں میری معاف کر دو

وزن: فعول فعلن فعول فعلن

(یہاں معاف درست تلفظ کے ساتھ ہے۔ مُعاف =فعول)

۲۔”آخر کار“ کی ترکیب کو لے لیجیے۔ سمجھانے کے لیے میں پھر دو مصرِع گھڑتا ہوں۔

غلط استعمال

آج شکیب کی باری آئی آخر کار

وزن: بحرِ ہندی

(یہاں ”آخر کار“  غلط تلفظ کے ساتھ ہے۔ آخر کار(=آخرْ کار) =فعلن فع)

صحیح استعمال

آخرِ کار شکیب آپ کی باری آئی

وزن: فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن

(اوپر وزن میں آخر کار کی  آخری ”ر“ فعلاتن کے ف میں شامل ہو رہی ہے)

(یہاں آخر کار درست تلفظ کے ساتھ ہے۔ آخرِ کار(=آخرے کار) =فاعلن فاع)

واضح رہے کہ یہاں زیرِ اضافت شمار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اگر وزن میں محض ساکن کو متحرک کیا جا رہا ہو تو معاملہ دوسرا ہوگا۔

۳۔ یہ مصرع دیکھیں۔

نہ آنے کی کوئی وجہ بھی تو ہے

وزن: فعولن فعولن فعولن فعو

یہاں ”وجہ“ کو غلط باندھا گیا ہے۔ درست تلفظ کے ساتھ باندھا جائے تو قافیہ باقی نہیں رہتا۔

(وجہ بر وزن فعو غلط ہے۔ وجہ بر وزن فاع درست ہے، ج ساکن ہے!)

۴۔ حکیم ضامن علی جلال لکھنوی کے پاس بغرضِ اصلاح عیشؔ فیروز پوری نے غزل بھیجی، جس میں یہ شعر بھی تھا

وحشت بھی ہے آنکھیں بھی ملاتے ہیں وہ مجھ سے
یہ ڈھنگ نئے ہیں کہ لگاوٹ بھی عذر بھی

یہاں لفظ ”عذر“ غلط باندھا گیا ہے۔ وضاحت کے لیے بتاتا چلوں کہ عیشؔ کی اس غزل کے دیگر  قوافی جگر، نظر، دگر، دو سر وغیرہ ہیں۔ ”وجہ“ ہی کی طرح عذر بھی بر وزن فاع درست ہے(بہ سکون ذ) اور بر وزن فعو غلط ہے۔

۵۔ نظم ”ماہِ صیام آیا“ ماہنامہ اللہ کی پکار جون ۲۰۱۶  ص ۹۴ پر شائع  ہوئی۔

اس نظم میں فنی لحاظ سے چند بہت ہی واضح اغلاط ہیں، اور میری بالکل شروع کی تمہیدی گفتگو کی تصدیق بھی کہ محض ”بحر و وزن“ جان لینا شعر کہنے کے لیے کافی نہیں ہو کرتا۔

اس میں یہ  اشعار دیکھیں:

جیسے ہی چاند نکلا سب نے کیا نظارہ
ہر سمت مسجدوں میں بجنے لگا نقارہ
اک رات جو بڑی ہے وہ لیلۃ القدر ہے
ماتھا تلاش میں ہے سجدہ مرا کدھر ہے

پہلے شعر میں ”نقارہ“ اور دوسرے شعر میں ”لیلۃ القدر“ کا تلفظ غلط باندھا گیا ہے۔

وضاحت: شاعر موصوف نے وزن کی قید کی وجہ سے بالکل ”درست“ قافیہ باندھا ہے لیکن در اصل نقارہ کا ”ق“ مشدد ہے۔ یعنی ق پر تشدید ہے۔ اس صورت میں یہ اس جگہ پر بحر میں آ ہی نہیں سکتا جہاں شاعر موصوف نے رکھا ہے۔

دوسرے شعر میں ”کدھر“ کے قافیے کے طور پر ”قدر“ باندھ دیا ہے۔ جبکہ بالکل سامنے کی  بات ہے کہ لیلۃ القدر میں ”د“ ساکن ہے یعنی اس پر کوئی حرکت نہیں۔ شاعر موصوف نے د پر زبر استعمال کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ صرف فنی غلطی کی نشاندہی ہے، تخیل کی بات چھوڑیے۔

قاری کی اقسام

یہ  مثالیں تو آپ نے سمجھ لیں۔ اب یہ غلط تلفظ مسئلہ کیسے پیدا کرتا ہے، وہ دیکھیں۔

آپ کے کلام کو پڑھنے والے تین طرح کے قاری ہوتے ہیں۔

  • اول وہ جو بحر و وزن سے واقف نہیں۔
  • دوم وہ جو بحر و وزن جانتا ہو۔
  • اور سوم وہ جو کلی طور پر غلطیوں کا ادراک رکھتا ہو، اسے آپ عالم کہہ لیں۔

قاری کی پہلی قسم پر تو ہم گفتگو ہی نہیں کر رہے۔ رہا وہ قاری جو عروضی نہ سہی، لیکن موزوں اور غیر موزوں شعر میں فرق کرنا جانتا ہو اسے آپ کے اس شعر سے ”پیغام“ مل رہا ہے کہ ”وجہ“ یا ”معاف“  وغیرہ کا درست تلفظ یہی ہے جو آپ نے باندھا ہے۔

میں کچھ اور آسان کرتا ہوں۔  فرض کریں کہ  آپ قاری کی اسی قسم، یعنی  قسمِ دوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور  آپ  لفظ ”غیور“ کو  اب تک غیَ یور(ی مشدد یعنی ی پر تشدید) پڑھتے رہے ہیں۔ کسی دن آپ کے مطالعے میں  علامہ اقبال کا یہ مصرع آگیا

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے

تو آپ بڑی آسانی سے جان جائیں گے کہ  اب تک آپ  غیور کا تلفظ غلط کرتے رہے تھے، اور اس کا اصل تلفظ غ یور(بر وزن فعول) ہے۔

چنانچہ اگر آپ اپنے اشعار میں غلط تلفظ کے ساتھ الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں تو جان لیں کہ اس صورت میں     آپ کا کلام غلط تلفظ کی تبلیغ کر رہا ہوتا ہے، یا یوں کہہ لیں کہ  اردو ادب کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے اور آپ کو خبر بھی نہیں ہوتی۔

تیسرا قاری وہ ہوتا ہے جو عالم ہو اور پہلی ہی نظر میں آپ کی فاش غلطی کو بھانپ جائے۔ اس قاری کی طبیعت پر یہ غلط تلفظ اس قدر گراں گزرتا ہے کہ  آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ یہ طبعِ نازک کی بات ہے۔ اور  اسے آپ فرسٹ امپریشنFirst Impression کہہ لیں کہ اس  غلط املا اور تلفظ کی وجہ سے پھر وہ آپ کے ”اچھے“ کلام پر بھی کما حقہ توجہ نہیں دے پاتا۔ یوں آپ ایک ایسے قاری سے محروم ہو جاتے ہیں جو در حقیقت قاری کہلانے کے قابل ہے۔

بھئی آپ ہی سوچیں۔ کوئی  مُعاف کو ماف یا عذر کو عذَر باندھے اور  دل ہی دل میں پیٹھ ٹھونکے جانے کا خواہش مند ہو  تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ پیٹھ ٹھونکنے والے اور داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے والے تو بہت مل جائیں گے۔ خصوصاً آج کے زمانے میں تو ایک مانگو ہزار ملتے ہیں۔  لیکن اصل سامع /قاری کہے گا کہ  آپ  شوق سے داد وصول کریں۔۔۔ہم تو چلے۔  بقول شاعر

ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ


shakeeb author pic
شکیبؔ احمد از کامٹی، الہند

نام شکیب احمد، وسط ہند سے تعلق ہے... شاعر، ادیب، لیکچرر، اور سافٹویئر انجینئر (وغیرہ) ہوں۔ زندگی میں بس ایک ہی خواہش ہے کہ کچھ ڈھنگ کا کام کر سکوں جو اللہ کے سامنے پیش کرنے لائق ہو۔ باقی آپ جو پوچھنا چاہیں...
مزید پڑھیں ←

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں