ہفتہ، 27 اکتوبر، 2018

شاعر نہیں، اچھے شاعر بنیے (۴)


گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔(پچھلی قسط یہاں پڑھیں)

ایطائے خفی کیا ہے؟

ایطا کی دوسری قسم ایطاء خفی ہے۔  ایطاء خفی وہ ہے جس میں کلمۂ آخر متحد المعنی کی تکرار بادی النظر میں معلوم نہ ہو، جیسے دانا اور بینا۔ اس میں روی غیر اصلی ”الف“ کو  الگ کیا تو ”داں“ اور ”بیں“ دو با معنی لفظ باقی رہ گئے لیکن یہ عیب بہت زیادہ  محسوس نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ ایطاء خفی کہلاتا ہے۔

ایطاء خفی دراصل قافیے کے آخر میں مشترک حروف کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے، جس میں قافیے کی تکرار اعلانیہ ظاہر نہیں ہوتی۔ مثالوں سے سمجھیے۔  غور سے پڑھیں، کیونکہ ہر مثال میں آپ ایک نئی بات پائیں گے۔

مثال ۱: غالبؔ کا یہ شعر دیکھیں:

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

آسان، انسان: آسان اور انسان دونوں ایک لفظ ہیں، کوئی ترکیب نہیں۔ یہاں روی ”ن“ ہے۔ لیکن چونکہ دونوں جگہ آخر میں ”سان“ آیا ہے، اس لیے بادی النظر میں ”آ“ اور ”ان“ کو ہم قافیہ نہ دیکھنے کی وجہ سے ایک خلش سی محسوس ہوتی ہے۔ یہی ایطاء خفی ہے۔

مثال۲: غالبؔ ہی کا یہ شعر دیکھیں:

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

جگر، نوحہ گر: یہاں روی ”ر“ ہے۔ لیکن اس سے پہلے ”گ“ کی تکرار دونوں مصرع میں ہوئی ہے۔ چنانچہ قاری یہ توقع کرتا ہے کہ آگے بھی ہر قافیہ میں ”گر“ کی قید ہوگی۔ لیکن دیگر قوافی(گژر، کمر، گھر) اس پر پورے نہیں اترتے اور صرف روی ”ر“ کا خیال رکھتے ہیں۔ چنانچہ یہاں ایطاء خفی ہے۔

اسی عیب کو دوسرے انداز میں "مطلع میں لگائی گئی قید کو توڑنا" کے بطور بھی ایڈرس کیا جاتا ہے جو اسی کے ذیل میں آتا ہے۔

مثال ۴: الفاظ ہند ص ۲۴ اپریل ۲۰۱۶

گلگلا میں اپنے بارے میں پکاتا رہ گیا
ان کی شادی ہو گئی میں سر کھجاتا رہ گیا

ردیف: رہ گیا
دیگر قوافی : بورا، پٹھا، دھندا، لیٹا، اکیلا

مطلع میں "پکاتا" اور "کھجاتا" قافیوں کی وجہ سے قاری سمجھتا ہے کہ "تا" ردیف کا حصہ ہے اور الف روی والے قافیے پکا،کھجا وغیرہ آنے والے ہیں۔ 

نچوڑ

مطلع میں قافیوں کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کیجیے، کیونکہ اسی میں پوری غزل کے قافیے ”طے“ ہو جاتے ہیں۔ آپ نے اوپر کی جتنی مثالیں دیکھیں، ان میں اکثر کا اختلاف مطلع کے قافیوں سے تھا۔
ایطاء جلی بالاتفاق قطعی طور پر عیب تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ سماعت پر ناگوار گزرتا ہے۔  لیکن چونکہ  ایطاء خفی میں تکرارِ زوائد صریح نہیں ہوتی، اس لیے اس کے جائز یا ناجائز ہونے میں اختلاف ہے۔

بقول حسرتؔ موہانی ”ایطاء خفی سے بچنا بہتر ہے، لیکن اس کو معیوب اور  متروک سمجھنا نہ مناسب ہے نہ صحیح۔“

نوٹ: ایطاء جلی عموماً تبھی ہوتا ہے جب قافیہ میں مرکب الفاظ استعمال کیے گئے ہوں، یعنی ان میں کوئی لاحقہ Suffix موجود ہو۔ اس کے نام ہی سے ظاہر ہے، کہ یہ ایک بڑا عیب مانا گیا ہے۔

٭ قوافی کا عیب نمبر ۲۔ اختلافِ روی یا حرف ماقبل روی ساکن


یہاں دو عیوب میں نے سمیٹ دیے ہیں۔ دونوں کے لیے الگ الگ اصطلاحات ہیں(پتہ نہیں کیا ضرورت تھی)ان اصطلاحات کو بھی ساتھ ہی زکر کر دیتا ہوں تاکہ ”سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے۔ “

(۱)روی تو آپ جانتے ہیں۔ قافیے کے آخر میں آنے والے حرف کو روی کہتے ہیں۔ اگر آپ نے دو قافیے ایسے استعمال کیے جن میں روی کا اختلاف ہے، تو اختلافِ روی کا عیب کہلائے گا جسے اصطلاح میں ”اکفا“ کہتے ہیں۔ جی ہاں! اصطلاحات سنیے اور سر دھنیے۔ زیل میں اس کی مثالیں دیکھیں۔

روی کے اختلاف کا عیب(اکفا): ۱۔شک اور سگ ۲۔ سیاہ اور مباح

پہلی مثال میں حروفِ روی بالترتیب ک اور گ ،  دوسری مثال میں ہ اور ح ہیں۔ روی کے اختلاف کا صاف مطلب ہے کہ یہاں روی  طے  ہی نہیں ہوا۔ اور بغیر حرفِ روی کے قافیہ ہو ہی نہیں سکتا۔

(۲)روی کے پہلے کا حرف جو ساکن ہو، اگر ا ن  میں اختلاف ہو تو یہ قافیے کا عیب کہلائے گا جسے اصطلاح میں ”سناد“ کا نام دیا گیا ہے۔(دیا گیا ہو، میری بلا سے!) صبر اور قہر میں ”ب“ اور ”ہ“روی سے پہلے ہیں، ساکن ہیں اور مختلف ہیں۔ چنانچہ یہاں سناد کا عیب ہے۔ دیگر مثالیں

حرف ماقبل روی (ساکن) کا اختلاف (سناد): ۱۔ چال، ڈھال، خیال کے ساتھ مول، تول یا ڈھیل، نیل وغیرہ۔۲۔ نار اور نور۳۔ راست اور کاشت  ۴۔ رکاب اور شکیب

یہ دونوں عیب آپ نے پڑھ لیے۔ اب ایک فتوی بزبان شمس قیس سن لیجیے۔
”اگر یہ عیب شعر میں موجود ہے تو آپ کا شعر، شعر کہلانے کے لائق نہیں ہے۔“

پڑھ لیا ہو تو مسکرائیے! کون پاگل ہے جو اختلافِ روی کے بعد الفاظ کو ہم قافیہ سمجھتا ہے۔ آپ کو تو یہ پہلے سے معلوم تھا کہ ”روی“ نہ ہو تو قافیہ ہی نہیں ہوتا۔ تو یہ دونوں عیوب گنانے کی کیا ضرورت تھی بھلا؟ جی جناب! آپ کی بات درست ہے، لیکن آج کل کے نام نہاد ”شاعروں“ کو یہ بتانا ضروری تھا۔ اور پھر، بڑوں کا ”آدیش“ بھی تو ماننا پڑتا ہے، جب اساتذہ نے انہیں عیوب میں شامل کیا ہے تو ہم کیسے نکال سکتے ہیں!
معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ شعرائے عرب نے ”سناد“ کو جائز رکھا ہے، نیز بعض شعرائے فارس نے بھی بصورتِ امالہ اسے جائز رکھا ہے(جیسے رکاب کو رکیب بنا کر شکیب کے ساتھ قافیہ رکھا ہے)۔ لیکن ان کے نزدیک بھی اختلافِ روی (اکفا)قطعاً درست نہیں۔ اور ہمارے نزدیک دونوں ہی پر ”کفر“ کا فتویٰ ہے، یعنی دونوں ہی قطعاً ناجائز ہیں۔

    ٭ قوافی کا عیب نمبر ۳۔ حرکت ماقبل روی کا اختلاف یا حرف ماقبل روی ساکن کے پہلے کی حرکت کا اختلاف

اصطلاح میں اسے اقوا کہتے ہیں۔ اصطلاح یاد رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، بس مطلب سمجھ لیں۔ اوپر بیان کیے گئے عیوب ”اکفا“ اور ”سناد“ ہی کی طرز پر سمجھیں۔ فرق بس اتنا ہی ہے کہ وہاں ”حروف“ کا اختلاف تھا، یہاں ”حرکات“ کا اختلاف ہے۔

چنانچہ اگر  روی سے قبل کی حرکت اگر بدل جائے تو یہ عیب قرار پائے گا۔ ایطا کے تحت مثال نمبر  ۵ میں یہ گزر چکا ہے۔

مثلاً  ”بدل “کے ساتھ ”گھُل“ قافیہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بدل میں روی(ل) سے پہلے ”زبر“ ہے اور ”گھل“ میں ”پیش“ ہے۔

اسی طرح، اگر روی سے پہلے والا حرف ساکن ہو، تو اس ساکن کے پہلے کی حرکت دیکھی جائے گی، اور اس کا اختلاف عیب شمار ہوگا۔

مثلاً   ”رشک“ کے ساتھ ”خشک“ قافیہ نہیں ہو سکتا۔ اس میں روی ”ک“، اور حرف  ماقبل روی ”ش“ ہے، لیکن رشک میں ”ش“ ساکن سے پہلے ”زبر“ ہے اور ”خشک“ میں ”پیش“ ہے۔

یہ بھی سخت عیب میں شمار ہوتا ہے۔ یعنی وہی جناب شمس قیس والا ”فتویٰ“ یہاں بھی لاگو ہوتا ہے۔

٭ قوافی کا عیب نمبر ۴۔ و /ی معروف و مجہول کا قافیہ


قوی امید ہے کہ آپ اس ”معروف“ اور ”مجہول“ کی اصطلاح سے واقف ہوں گے۔ پھر بھی سرسری طور پر ذکر کرتا چلوں۔ واؤ معروف اسے کہیں گے جس میں و کی آواز پوری طرح ادا ہو، اس میں ہونٹ سکڑ جاتے ہیں۔ مثلاً دور، طور وغیرہ۔ واؤ مجہول میں و کی آواز پوری طرح ادا نہیں ہوتی، بس ہونٹ گول کر دیتی ہے۔ مثلاً کوہ، شور وغیرہ۔

اسی طرح یائے معروف اور یائے مجہول کو قیاس کر لیجیے۔  یائے معروف کی مثالیں: قریب، نصیب وغیرہ۔ یائے مجہول کی مثالیں: جیب، فریب

مثالیں دیکھیے۔

مثال۱۔ شاہ حاتم کا شعر

کیا اس کی صفت میں گفتگو ہے
جیسا تھا وہی ہے جو ہے سو ہے

وضاحت: گفتگو میں واو معروف ہے، سو میں واو مجہول ہے۔

مثال ۲۔ میر حسنؔ

مجھے بھیجا ہے اس نے کام کو مدت میں آج اپنے
کوئی اس دم مجھے دیکھے کہ کیا مغرور جاتا ہوں
گلی میں اس کی آمد شد حسن خالی نہیں غم سے
دلِ پر درد آتا ہوں سرِ پر شور جاتا ہوں

وضاحت: مغرور میں واو معروف ہے، پر شور میں واو مجہول ہے۔

مثال ۳۔ قائمؔ

کوئی مختار کہا یا کوئی مجبور ہمیں
ہم سمجھتے ہیں جہاں گک کہ ہے مقدور ہمیں
پاؤں بھی اپنے ٹھہرتے نہیں مانند سرشک
دیکھیں، لیجائے کدھر یہ سرِ پر شور ہمیں

وضاحت: مقدور میں واو معروف ہے، پر شور میں واو مجہول ہے۔

مثال ۴۔ غالبؔ

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو

وضاحت: گفتگو میں واو معروف ہے، کہو میں واو مجہول ہے۔

مثال ۵۔ سالکؔ

جوش ہے دل سے لبوں تک نالۂ پر شور کا
پھ مرے سینے میں ماتم ہے دلِ مغفور کا

وضاحت: پر شور میں واؤ مجہول ہے، مغفور میں واؤ معروف ہے۔

مثال ۶۔ میر سوزؔ

اے نگہتِ گل جائیو محفل میں کسی کی
ٹک دل کو مرے ڈھونڈیو تو دل میں کسی کے

وضاحت: کی میں یائے  معروف ہے، کے میں یائے مجہول ہے ۔

مثال ۷۔ ذکیؔ دہلوی

عطا کر اپنے کرم سے وہ خاطرِ ہموار
کہ ایک حال فراز و نشیب ہو یا رب
شبِ فراق میں ہر دم ہے یہ دعائے ذ کیؔ
وصال وصلِ صنم میں نصیب ہو یا رب

وضاحت: نشیب میں یائے مجہول ہے، نصیب میں یائے  معروف ہے۔

مرزا یاس صاحب اس بارے میں چراغِ سخن ص۸۱ پر فرماتے ہیں۔

” ایسے قافیوں میں واؤ معروف اور واؤ مجہول، یائے معروف اور یائے مجہول کا اجتماع شعرائے متقدمین و متأخرین کے کلام میں اکثر پایا جاتا ہے جیسے نور کا قافیہ گور، تاخیر کا قافیہ دیر۔ مگر آجکل زبان اردو میں ایسے قافیوں کا ترک اولیٰ ہے۔“

و/ی معروف اور مجہول کے قافیے پہلے استعمال ہوتے تھے، لیکن اب درست فیصلہ کرتے ہوئے اسے ترک کر دیا گیا ہے۔ ویسے بھی قافیے کا تعلق صوت یا آواز سے ہے۔ اگر آواز ایک نہیں پیدا ہو رہی(اور یقیناً نہیں ہو رہی)تو اسے بطور قافیہ استعمال کرنا زبردستی ہے۔   انگریزی میں یوں کہہ لیں کہ

It does not make sense.

    ٭ قوافی کا عیب نمبر ۵۔ صوتی قوافی


صوت ، آواز کو کہتے ہیں۔ چونکہ اردو میں ہم عربی کی طرح ”س اور ص“، ”ز، ظ، ض اور ذ“ وغیرہ کے الگ مخرج نہیں نکالتے اور سبھی ایک ہی آواز رکھتے ہیں، چنانچہ بعض شعراء کرام ان کو بطور روی استعمال کرنا درست سمجھتے ہیں۔

مثلاً: باز، ریاض اور لحاظ۔ تھوڑا اور آگے بڑھ کے بعض اور وعظ(کہ اردو میں الف اور ع کو بھی یکساں ادا کیا جاتا ہے)

اس پر اختلاف پایا جاتا ہے، اور تو تو میں میں ہوتی رہتی ہے۔ ذاتی طور پر فقیر اس کے جواز (بسبب زبان اردو)قائل ہے، لیکن پھر بھی احتیاطاً اس کے ترک ہی کو اولیٰ سمجھتا ہے۔

آگے آپ کی مرضی! ویسے  اگر آپ قادر الکلامی کے کوشاں(یا مدعی) ہیں تو اس کے ترک سے آپ کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

مشق عیب نمبر ۲:عیوبِ قافیہ

مشق۲۔۱: ایطا

۱۔  آپ کے زیر مطالعہ رسالوں کے پچھلے شماروں میں سے ایسے اشعار تلاش کیجیے جن میں ایطا کا نقص ہے۔

۲۔ کیا علامہ اقبالؔ کی مشہور نظم ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا“ کے پہلے شعر(مطلع) میں ایطا کا نقص ہے؟ عیب کے ہونے یا نہ ہونے کو وجوہات کے  ساتھ واضح کیجیے۔ لفظ ہندوستاں کو مرکب یا مفرد ماننے پر ایطا خفی  رہتا ہے یا جلی؟

نوٹ: مشق کے جوابات فقیر کے ای میل یا بلاگ کے منٹ میں ارسال کیے جا سکتے ہیں۔
 (جاری)
shakeeb author pic
شکیبؔ احمد از کامٹی، الہند

نام شکیب احمد، وسط ہند سے تعلق ہے... شاعر، ادیب، لیکچرر، اور سافٹویئر انجینئر (وغیرہ) ہوں۔ زندگی میں بس ایک ہی خواہش ہے کہ کچھ ڈھنگ کا کام کر سکوں جو اللہ کے سامنے پیش کرنے لائق ہو۔ باقی آپ جو پوچھنا چاہیں...
مزید پڑھیں ←

شاعر نہیں،اچھے شاعر بنیے (۳)


 گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔(پچھلی قسط یہاں پڑھیں)

٭عیب نمبر ۲۔ قوافی کی غلطیاں:

ہاں جی! تو بات قافیے تک آ ہی پہنچی۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ قافیے کے بغیر شعر کا تصور ہی محال ہے۔ شعر میں ردیف نہ ہو تو بھی شعر ہو سکتا ہے، لیکن قافیے کے بغیر شعر نہیں ہو سکتا۔ لیکن شعراء کرام ان قوافی کے انتخاب میں بھی کئی غلطیاں کرتے ہیں۔ آپ اگر ان غلطیوں سے واقف ہوں گے تو یقیناً اپنے شعر میں ان سے احتراز کریں گے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شعراء خدائی عطا کردہ ”ترازو“ کے ساتھ شعر کہنا شروع کرتے ہیں، یعنی علمِ عروض سیکھتے نہیں اور نہ اس پر کوئی مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ذاتی وجدان کے مطابق شاعری کی جاتی ہے اور اہلِ علم  و ادب کے نزدیک نا قابلِ التفات ٹھہرتی ہے۔

اب خدارا یہ نہ کہیے گا کہ مجھے دوسروں سے کچھ لینا دینا نہیں، میں صرف اپنے لیے شعر کہتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اس پر تو مقالے موجود ہیں کہ ہر تخلیق کار اپنا exposure چاہتا ہے،کسی نہ کسی درجے میں۔ دوسرے یہ کہ بھئی! جب آپ کسی خیال پر محنت کر کے شعر کہہ ہی رہے ہیں، تو کیوں نہ درست کہیں؟

مجھے یاد ہے کہ اردو محفل فورم پر کسی  شاعر نے غلط قافیے باندھے، احباب کے توجہ دلانے پر انہوں نے بشیر بدر صاحب کی اس غزل کو بطورِ سند پیش کر دیا جس میں انہوں نے غلط قوافی باندھے ہیں(ان قوافی میں” ایطا“ کا نقص ہے، ایطا کی بحث آگے آ رہی ہے)۔ اس پر ان کی غلط فہمی رفع کی گئی  کہ بشیر بدر نے بھی اس غزل میں غلط قافیے استعمال کیے ہیں۔ ان کی غلطی آپ کے لیے سند نہیں، بلکہ آپ کی بھی غلطی ،غلطی ہی کہلائے گی اور ان کی بھی۔ اگر آپ بغیر عیوبِ فصاحت کے جانے، مطالعے  اور علم کے بغیر صرف ذاتی وجدان پر اگر بھروسہ کریں گے تو بقول فاتح الدین بشیر فاتح، غلط اور مضحکہ خیز قافیے باندھیں گے۔

ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ

اساتذہ شعراء کی غلطیاں آپ کے لیے سند ہرگز نہیں ہیں۔ آپ یہ نہ سمجھیے کہ اگر ان سے وہ غلطیاں ہوئی ہیں تو وہ غلطیاں جائز ہیں۔ تمام عیوبِ سخن جو بیان کیے جا رہے ہیں، ان میں سے کوئی بھی عیب اساتذہ کے کلام میں بھی ہوگا تو عیب ہی کہلائے گا۔ یہ نہیں کہ میرؔ، غالبؔ  اور آتش کے لیے ترازو اور ہے اور آپ کے لیے اور۔

چند بنیادی اصطلاحات

خیر! تو ہم بات کر رہے تھے قافیوں کی۔

قافیوں کی اغلاط یا عیوب کے ذکر  سے پہلے یہ ضروری ہوگا کہ چند بنیادی باتیں اور اصطلاحات متعارف کرا دی جائیں۔ ہو سکتا ہے ان سے آپ پہلے سے واقف ہوں، پھر بھی دہرا لیا جائے تو کیا حرج ہے۔


  • دو الفاظ اس وقت ہم قافیہ کہلائیں گے جب ان میں صوتی مشابہت ہو۔ مثلاً اگر، بدر، اثر، جگر وغیرہ۔
  • قافیہ کی جمع قوافی/ قافیے یا قافیوں ہے۔
  • عربی اشعار میں ردیف نہیں ہوتی، صرف قوافی ہوتے ہیں۔ فارسی اور اردو اشعار میں ردیف ہوتی ہے، لیکن اس کا استعمال کرنا یا نہ کرنا شاعر کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔ ردیف سے مضمون کچھ تنگ ہو جاتا ہے، چنانچہ جہاں اظہارِ خیال میں رکاوٹ پیش آئے، وہاں صرف قوافی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ایسا کلام جس میں صرف قافیے ہوں، ردیف نہ ہو، ”غیر مردف“ کہلاتا ہے۔
  • واضح رہے کہ ردیف کا استعمال اختیاری ہے، لیکن قافیے کے بغیر شعر نہیں ہو سکتا۔

کچھ لوگوں نے پورے کلمہ کو اور بعض نے صرف حرفِ ”روی“ کو قافیہ مانا ہے۔  حرفِ روی وہ حرف ہے جس پر قافیہ کی بنیاد ہوتی ہے۔ مثلاً  بدر، اثر، جگر میں ”ر“۔ حرفِ روی کو مختصراً صرف ”روی“ بھی کہہ دیا جاتا ہے، مراد اس سے ”حرفِ روی“ ہی ہوتی ہے۔ قافیے کا پورا کھیل حرفِ روی ہی پر منحصر ہے، اور جس نے روی  اور اس کی جزئیات پر عبور حاصل کر لیا، وہ یوں سمجھیں کہ  قافیے کا عالم ہو گیا۔

ذیل میں قافیے کے عیوب دیکھیں۔ کتابوں میں ہر عیب کے لیے بھاری بھرکم اور ثقیل اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ علمِ عروض کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ اس میں  اصطلاحات کی بھرمار ہے۔  اور بقول کمال احمد صدیقی، عروضی تو گاڑھی عین سے عروضی ہوتا ہے، بغیر اصطلاحات اچھالے اس کا ایک نوالہ بھی ہضم نہیں ہوتا۔ چونکہ نہ میں عروضی ہوں، نہ آپ ہیں۔ چنانچہ اپنی توجہ صرف بات سمجھنے پر رکھیں گے۔ البتہ ہر ایک کے ساتھ ان کی اصطلاح بھی صرف اس لیے لکھ رہا ہوں کہ کوئی ”گاڑھی عین“ والا عروضی اور ”گاڑھے قاف“ والا قافیہ دان آپ پر رعب نہ ڈال سکے۔

٭قوافی کا عیب نمبر۱۔ ایطا:

ایطا کو سب سے پہلے ذکر کرنے کا سبب اس کی ”شہرت“ ہے۔ جی ہاں! یہ عیب بہت مشہور ہے، اور اب تو اس قدر مشہور ہے کہ آپ یہ غلطی کرتے ہی ان شاء اللہ پکڑے جائیں گے۔ جی مسکرائیے! لیکن حقیقت یہی ہے۔  ویسے حقیقت تو یہ بھی ہے کہ یہ  آپ کے ساتھیوں کی ”ٹائپ“ پر منحصر ہے، آیا  وہ آپ کی اصلاح کرتے ہیں یا نہیں۔ ورنہ  تو بس کمپیوٹر پر دو مصرع برابر برابر لکھیں، کسی Image editor میں اس کے بیک گراؤنڈ پر ایک عدد لڑکی چسپاں کر دیں(لڑکی مغموم ہو تو اور بھی اچھا ہے)اور سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں۔ بس پھر آپ کا ”شعر“ ہوگا اور آپ کے عزیز دوستوں کی داد کے ڈونگرے ہوں گے۔

تفنن برطرف، آپ اس نام نہاد داد کے چکر میں پڑ گئے تو سمجھیں آپ کا فن مٹی میں ملنے کا اچھا خاصا انتظام ہو گیا ہے ۔ اس لیے  ہمیشہ اہلِ علم حضرات سے تعلق رکھیں اور وقتاً فوقتاً ان سے مشورہ کرتے رہا کریں۔ سب سے اچھا تو یہ ہوگا کہ کوئی استاد ڈھونڈیں جو معائب اور محاسنِ سخن سے واقف ہو، جمالیات جانتا ہو(یہ نہیں کہ بس الفاظ کے عیوب دور کر دیے اور خیالات بے ڈھنگے اور بکواس ہی رہنے دیے) اور اس کا خیال آپ سے ملتا ہو۔ استادی اور شاگردی کی رسم بھی ہمارے یہاں ناپید ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ آج کل  اپنے کلام پر اصلاح لینے کو اپنی ”توہین“ سمجھا جاتا ہے ۔

خیر، جذباتی نہ ہوں! آنسو آ گئے ہوں تو پونچھ لیں۔ ہمارا کون استاد ہو سکتا ہے بھئی! کبھی نہیں، ہم تو خود استاد ہیں۔ بلکہ استاذ الاساتذہ ہیں۔ غالبؔ جیسے اشعار تو نیند میں بھی کہہ لیتے ہیں۔ چنانچہ استادی اور شاگردی کے اس چکر کو چھوڑتے ہیں  اور یہ سمجھتے ہیں کہ ایطا کیا ہے،  ورنہ ہماری استادی کا راز فاش ہو جائے گا۔
ایطا کی دو قسمیں ہیں:




  1. ایطائے جلی
  2. ایطائے خفی
عموماً ایطا بحث میں سارا زور ایطائے جلی پر ہوتا ہے کیونکہ یہ بڑا عیب ہے۔ اس لیے ادبی حلقوں میں اسے "جلی" کی پخ لگائے بغیر صرف "ایطا" بھی کہا جاتا ہے۔

ایطائے جلی کیا ہے؟

مرزا یاسؔ کے لفظوں میں ”ایطا کہتے ہیں قافیوں میں کلمۂ آخر (متحد المعنی) کی تکرار کو۔ یعنی اگر اس کلمۂ متحد المعنی کو اگر قافیوں سے الگ کر ڈالیں تو جو کچھ باقی رہے وہ الفاظ با معنی ہوں مگر ان میں حرفِ روی قائم نہ ہو سکے۔“

نہیں سمجھے؟ جی کوئی بات نہیں۔ ابھی سمجھ میں آ جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر  آپ یہ  دو قافیے دیکھیں: ”دردمند “اور ”حاجتمند“۔ ان میں آخری کلمہ ”مند“ دونوں جگہ ہے، اور دونوں جگہ اس کے معنی بھی ایک ہیں۔ اس کلمہ ”مند“ کو اگر دونوں قوافی میں سے نکال دیا جائے تو ”درد“ اور ”حاجت“ باقی رہتے ہیں، جو (۱)با معنی الفاظ ہیں اور(۲) ہم قافیہ نہیں ہیں( ان میں روی مشترک نہیں ہے۔) چنانچہ دردمند اور حاجتمند میں ”ایطا“ کا عیب ہے۔

حرفِ روی کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ یہاں ”درد“ کا روی ”د“ اور حاجت کا روی ”ت“ ہے۔ روی کا فوری تعین کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ  قافیے میں سے زوائد کو نکال دیں، یہاں تک کہ قافیہ کا اصل باقی بچ جائے۔ اگر قافیہ فعل ہو، تو اسے امر (حکمOrder)بنا دیں۔ مثلاً چلنا سے چل۔ اب آخری حرف روی ہوگا۔ یعنی چلنا میں حرفِ روی ”ل“ ہے۔ یہ قافیے کی بحث ہے، لیکن ایطا کے پہچاننے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
ایطا پر واپس آتے ہیں۔ آپ جان چکے ہیں کہ  قافیوں کا کلمۂ آخر جو معنی میں بھی ایک ہو، نکال دینے پر جو اصلی الفاظ باقی بچیں، وہ اور قافیوں کے خلاف ہو جائیں تو یہ ایطا کہلاتا ہے۔  مثلاً ایک غزل میں  یوں مطلع کہا گیا:

یہ تو نہیں انسان جفا گر نہیں ہوتا

تم سا بھی مگر کوئی ستم گر نہیں ہوتا

اس میں ”گر“ دونوں جگہ فاعل(کرنے والا) کے معنی میں ہے۔(جفا گر=جفا کرنے والا، ستم گر = ستم کرنے والا)اب ”گر“ جو زائد حصہ ہے، دونوں قافیوں سے نکال دیا جائے تو ”ستم“ اور ”جفا“ باقی رہتا ہے جو با معنی الفاظ ہیں اور  ہم قافیہ نہیں ہیں۔ اس لیے مطلع کے اس شعر میں ایطا ہو گیا۔

غور کریں کہ بھلا ایطا میں کلمۂ زائد کے ”متحد المعنی“ ہونے کی قید کیوں لگائی گئی ہے؟ جی کیا کہا؟ بالکل درست! یہ در اصل یہ جانچنے کے لیے پیمانہ ہے کہ آیا مستعمل ترکیب میں ”روی“ اصلی ہے یا نہیں۔ یہاں جفا گر اور ستمگر میں روی ”ر“ ہے، اور دونوں جگہ اصلی نہیں ہے(کیونکہ دو علیحدہ  لفظوں سے مرکب ہے)۔ اگر قافیہ ہوتا ”جگر“ یا ”قمر“ وغیرہ، تو ان میں حرف روی ”ر“ اصلی ہے۔

ایطا کی آسان پہچان

آپ کی آسانی کے لیے ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں۔ سیماب اکبر آبادی نے ایطا کی پہچان آسان کرنے کے لیے یوں لکھا ہے۔

”ایطا کی ایک پہچان یہ ہے کہ روی حذف کرنے کے بعد اگر لفظ با معنی رہے تو ایطا ہے ورنہ نہیں۔“

لیجیے جناب! آسان سا فارمولا ہے۔ ویسے یاد رہے کہ حرفِ روی جب اصلی ہوگا، تبھی روی حذف کر کے جانچیے گا۔ اگر روی اصلی نہیں ہے تو پورے کلمۂ زائد کو حذف کیجیے، اور دیکھیے کہ بقیہ بچے الفاظ با معنی ہیں تو ایطا ہے۔ ایک لفظ بھی اگر بے معنی ہے، تو ایطا نہیں ہے۔ جفا گر اور ستم گر میں چونکہ روی (ر)اصلی نہیں تھا، اس لیے پورے کلمۂ زائد یعنی ”گر“ کو حذف کر کے ”جفا“ اور ”ستم“ کو پرکھا گیا، جو با معنی تھے۔ چنانچہ ایطا واقع ہوا۔

یہ تو ظاہر ہی ہے کہ زائد کلمہ کو حذف کرنے کے بعد اگر بچے ہوئے الفاظ  (بھلے ہی ہم معنی ہوں)ہم قافیہ  رہ جائیں، تو ایطا نہیں ہوگا۔ مثلاً ”کہنا“ اور ”رہنا“ میں سے زوائد(یعنی ”نا“ جو علامتِ مصدر ہے) نکال دیں تو ”کہہ“ اور ”رہ“ بچتے ہیں جو با معنی تو ہیں، لیکن ”ہم قافیہ“ بھی ہیں۔ یا بالفاظ یاسؔ، ان میں روی کا تعین بھی ہو رہا ہے، تو ایطا نہیں ہوگا۔

بور ہو گئے؟

اب تک کی بحث ہو سکتا ہے آپ کو ٹھیک ٹھاک خشک محسوس ہوئی ہو، لیکن انہی میں اصل بات چھپی ہے۔ ہو سکتا ہے اب بھی آپ ایطا کے متعلق شش و پنچ میں ہوں، یا کوئی بات سمجھ نہیں پائے ہوں۔ اس میں بھی  پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ بے فکر رہیں!  آگے دی گئی مثالوں سے ان شاء اللہ آپ بات پوری طرح سمجھ جائیں گے۔ ہر مثال کے ساتھ اس کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔

ایطائے جلی کی مثالیں

مثال۱۔ وصیؔ شاہ کافی مشہور شاعر ہیں، جو نوجوان نسل کا Craze کہلاتے ہیں۔ ٹین ایجرز ان کی شاعری کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ یہ تعارف خالصتاً بطور تعارف ہی ہے۔  اس میں ہرگز کوئی طنز یا تضحیک کا پہلو نہ ڈھونڈنے بیٹھ جائیے گا کہ ان کی شاعری میں عیب دکھا رہا ہے تو یقیناً خود کو ”کچھ سمجھ رہا ہوگا“۔ ابھی تو میرؔ، غالبؔ، آتشؔ وغیرہ کے اشعار بھی آئیں گے۔ تب ان کا تعارف تو کرانے سے رہا، تب آپ سوچیں گے کہ میر و غالب سے آگے بڑھ رہا ہے۔ لاحول ولا قوۃ۔ 

خیر، وصیؔ شاہ کے پہلے شعری مجموعے ”آنکھیں بھیگ جاتی ہیں“ کے صفحہ ۱۹ پر غزل ہے۔ مطلع یوں ہے:

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

اس میں ایطا کا نقص ہے۔

وضاحت:

غزل کی ردیف ہے ”ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں“۔ مطلع میں موجود دو قوافی ”اترتا“ اور ”پڑھتا“ ہیں، جس میں حرف روی الف غیر اصلی ہے۔ چنانچہ زوائد(یعنی ”تا“)کو نکال دیں تو ”اتر“ اور ”پڑھ“ بچتا ہے، یا جیسا کہ اوپر ایک آسان اصول میں نے بتایا، اگر قوافی ”فعل“ ہیں، تو انہیں ”امر“ یعنی حکم بنا دیں، یعنی ”اترتا“ سے ”اتر“ اور ”پڑھتا“ سے ”پڑھ“، چونکہ ”اتر“ اور ”پڑھ “
(۱)با معنی الفاظ ہیں
(۲) ہم قافیہ نہیں ہیں(حرفِ روی متعین نہیں)

چنانچہ اس میں ایطا کا نقص ہے۔

وصیؔ شاہ کی اس غزل کے دیگر قوافی یہ ہیں:

 لکھتا، سلگتا، لگتا، کرتا، پڑھتا، رکھتا، تکتا، گزرتا، ہنستا

ان تمام میں کلمۂ آخر متحد المعنی(اب میرا خیال ہے آپ اصطلاحات ہضم کرنے کے لائق ہو گئے ہوں گے) ”تا“ ہے۔ چنانچہ بقیہ بچنے والے الفاظ ہیں:

 لکھ، سلگ، لگ، کر، پڑھ، رکھ، تک، گزر، ہنس

مطلع سے دیکھیں، تو ”اتر، کر، گزر“ اور ”سلگ، لگ“  درست قوافی ہو سکتے تھے۔ چنانچہ اس غزل میں اگر ”اترتا، کرتا، گزرتا“ وغیرہ قوافی استعمال کیے جاتے تو غزل سے ایطا کا نقص دور ہوتا، اس صورت میں بقیہ تمام قوافی بے کار ٹھہرتے ہیں اور ان تمام اشعار کو  دوسری کسی غزل میں جگہ دی جا سکتی ہے جن کے قوافی ان سے match ہوتے ہوں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ وصیؔ کے اس شعری مجموعے کا نام اسی غزل کی ردیف ”آنکھیں بھیگ جاتی ہیں“ ہے۔ یعنی یہ  کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ یہ اپنے کلام میں سے وصی شاہ کا ”انتخاب“ ہے۔ کتاب کے شروع میں ”عباس تابش“ نے کچھ صفحات لکھ کر گویا تصدیق کی مہر ثبت کی ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ ان کی نظروں سے سارا کلام گزرا ہو گا، لیکن گیہوں کے ساتھ گھن تو پیسا ہی جاتا ہے۔ انہی بنیادوں کی بنا پر  شاعر کے مقام کا تعین ہوتا ہے۔

    مثال ۲۔ وصیؔ کے اسی مجموعے کے ص ۵۵ کی غزل کا  مطلع یوں ہے:

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی

یہاں دونوں قوافی درست ہیں۔ کیونکہ ”نا“ نکال دینے پر بچنے والے الفاظ کہہ اور سہ، ہم قافیہ ہیں۔  لیکن اگلا شعر کچھ یوں ہے:

ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا

مرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی

یہاں قافیہ ”دینا“ کی وجہ سے ایطا کا نقص ہے۔ مزید یہ کہ غزل کے دیگر  تمام قوافی بھی ایطا کا شکار ہیں۔ صرف ان دو اشعار کو چھوڑ کر جن میں قافیہ ”کہنا“ پھر سے استعمال ہوا ہے۔

وضاحت:

غزل کی ردیف ہے ” محبت مر نہیں سکتی “۔ مطلع میں موجود دو قوافی ”سہنا“ اور ”کہنا“ ہیں،  جس میں حرف روی الف غیر اصلی ہے۔ چنانچہ زوائد(یعنی ”نا“)کو نکال دیں تو ”کہہ“ اور ”سہ“ بچتا ہے جو (۱)با معنی الفاظ ہیں  اور(۲) ہم قافیہ ہیں(حرفِ روی ”ہ“)

چنانچہ مطلع  میں ایطا کا نقص نہیں ہے۔

لیکن اس کے بعد والے شعر میں استعمال کیا گیا قافیہ ”دینا“ میں سے ”نا“(جو کلمۂ آخر متحد المعنی ہے، دونوں جگہ ایک ہی معنی بطور مصدر آیا ہے) نکالنے پر ”دے“ بچتا ہے جو(۱) بامعنی لفظ ہے (۲) مطلع میں طے شدہ قافیوں کے زوائد نکالنے پر بچنے والے الفاظ(کہہ، سہ) سے ہم قافیہ نہیں ہے۔ (کہہ، سہ اور ”دے“)

چنانچہ اس دوسرے شعر میں ایطا کا نقص ہے۔

وصیؔ شاہ کی اس غزل کے دیگر قوافی یہ ہیں:

مرنا، کھلنا، لکھنا (باقی قافیے(دینا اور کہنا) مکرر استعمال ہوئے ہیں)

ان تمام میں کلمۂ آخر متحد المعنی ”نا“ ہے۔ چنانچہ بقیہ بچنے والے الفاظ ہیں:

مر، کھل، لکھ

اس غزل میں تقریباً تمام ہی قوافی غلط ہیں۔ صرف دو اشعار درست قرار پاتے ہیں۔ جن دونوں  کے قافیے ”کہنا“ ہیں۔ یعنی پوری غزل میں صرف دو قافیے ”سہنا“ اور ”کہنا“ درست استعمال کیے گئے ہیں۔

    مثال ۳۔ وصیؔ کا دوسرا شعری مجموعہ ”مجھے صندل کر دو“ کے ص۱۲۱ پر یہ اشعار ملاحظہ ہوں:

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں

مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی
جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں

وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا تھا
میں ڈھونڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں

یہاں دوسرے اور تیسرے شعر میں ایطا کا عیب ہے۔

وضاحت:

دوسرے اور تیسرے شعر کے قوافی دیکھیں۔ چونکہ قافیے کی بنیاد مطلع میں پڑ چکی ہوتی ہے، آپ مطلع میں یہ قافیے دیکھ رہے ہیں۔

تلخیوں، اداسیوں

دونوں کے کلمۂ آخر متحد المعنی(وں، جو جمع بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے) کو نکال دیں تو ”تلخی“ اور ”اداسی“ بچتا ہے جو ہم قافیہ ہیں اور اس میں ایطا کا عیب نہیں ہے۔ یعنی مطلع درست ہے۔

اس کے برخلاف دوسرے اور تیسرے شعر میں ”دھڑکنوں “اور ”شرارتوں“ قافیے استعمال ہوئے ہیں۔ اس میں سے کلمۂ آخر حذف کر دیں تو ”دھڑکن“ اور ”شرارت“ بچتا ہے جو

    (۱) با معنی الفاظ ہیں۔

    (۲) تلخی، اداسی(قافیے جو مطلع میں طے ہوئے تھے، زوائد حذف کرنے کے بعد) اور دھڑکن، شرارت ہم قافیہ الفاظ نہیں ہیں، اس لیے ان دو اشعار میں ایطا ہے۔

اس غزل کے بقیہ تمام قوافی درست ہیں، چنانچہ اگر مطلع کے بعد والے دو اشعار نکال دیے جائیں تو غزل میں ایطا نہیں رہتا۔ بقیہ قوافی ملاحظہ ہوں۔

تسلیوں، ہتھیلیوں، کہانیوں، آندھیوں، اداسیوں(تسلی، ہتھیلی، کہانی، آندھی، اداسی)

یہ تمام ہم قافیہ ہیں، جن میں حرفِ روی ”ی“ ہے۔ چنانچہ ان میں ایطا نہیں ہے۔

    مثال ۴۔امید کرتا ہوں کہ  اب تک آپ کافی حد تک سمجھ چکے ہوں گے، چنانچہ اب زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ کہیں پریشانی ہو تو ضرور  مجھے مطلع فرمائیے گا۔

 آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ص ۹۸ پر یہ شعر

اب تری ذات سے منسوب ہیں سانسیں اس کی
اور کھلتی ہیں ترے قرب میں بانہیں اس کی

ردیف: اس کی

قوافی: سانسیں، بانہیں

زوائد: یں(کلمۂ آخر ہے، دونوں جگہ جمع بنانے کے لیے استعمال ہوا ہے)

زوائد حذف کرنے پر: سانس، بانہہ

چونکہ سانس اور بانہہ، دونوں (۱)با معنی الفاظ ہیں۔ (۲)ہم قافیہ نہیں ہیں(روی ”س“ اور ”ہ“) اس لیے یہاں ایطا کا نقص ہے۔

مثال ۵۔ ایضاً ص۵۰ ، صرف ایک شعر ایطا کا شکار ہے، ایطا کی نشاندہی کے لیے وہ شعر مطلع کے ساتھ درج کرتا ہوں۔

میری آنکھوں میں آنسو پگھلتا رہا، چاند جلتا رہا
تیری یادوں کا سورج نکلتا رہا، چاند جلتا رہا

یہ دسمبر کہ جس میں کڑی دھوپ بھی میٹھی لگنے لگے
تم نہیں تو دسمبر سلگتا رہا، چاند جلتا رہا

دوسرا شعر ایطا کا شکار ہے۔

وضاحت:

ردیف: رہا چاند جلتا رہا

قوافی: پگھلتا، نکلتا، سلگتا

زوائد: تا(کلمۂ آخر متحد المعنی)

زوائد حذف کرنے پر: پگھل، نکل، سلگ

پگھل اور نکل تو ہم قافیہ الفاظ ہیں لیکن چونکہ سلگ اور پگھل، نکل ہم قافیہ نہیں ہیں(روی ”گ“ اور ”ل“) اس لیے دوسرے شعر میں ایطا کا نقص ہے۔

دیگر قوافی: بدلتا، چلتا، نکلتا، ابلتا، ملتا، ڈھلتا(بدل، چل، نکل، ابل، مل، ڈھل)

ان تمام میں حرف روی یعنی ”ل“ قائم ہے، چنانچہ ایطا نہیں ہے اور باقی تمام  قوافی درست ہیں۔

واضح رہے کہ حرف روی(جو یہاں ل ہے)کے پہلے کی حرکت تمام قوافی میں ”زبر“ ہے۔ اگر حرکت ما قبل روی بدل جائے تو قافیہ غلط ہو جائے گا۔ مثلاً بدلتا، چلتا(بدل، چل) وغیرہ کے ساتھ ”گھُلتا“(گھُل) قافیہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہاں روی سے پہلے یعنی ”گھ“ پر ”پیش“ کی حرکت ہے۔ اس کی تفصیل آگے ”قوافی کا عیب نمبر ۳“ پر آ رہی ہے۔

مثال ۶۔ حفیظؔ جونپوری کا شعر

دل دیا اس کو جسے دل سے قدر داں دیکھا

اسی کے ہو رہے جس کو مزاج داں دیکھا

یہ  شعر ایطا کا شکار ہے۔

وضاحت:

ردیف: دیکھا

قوافی: قدر داں، مزاج داں

زوائد: داں(کلمۂ آخر متحد المعنی)

زوائد حذف کرنے پر: قدر، مزاج

قدر اور  مزاج  (۱) با معنی الفاظ ہیں۔ (۲)ہم قافیہ نہیں ہیں(روی ”ر“ اور ”ج“) اس لیے اس  شعر میں ایطا کا نقص ہے۔

مثال ٧. پروین شاکر کی مشہور غزل ہے جس کا مطلع ہے:

عکسِ خوشبو ہوں،بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بِکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

اس غزل میں ایطا کا نقص ہے.

وضاحت:
قوافی: روکے، سمیٹے، لے، بکھرے، رکھے، جھانکے، آئے
ردیف: کوئی
قوافی میں 'ے' بطور روی غیر اصلی استعمال کیا گیا ہے۔ قافیے اگر فعل ہوں تو ان کا مصدر روی کا تعین کرتا ہے۔ مصدر کے لیے فعل کا صیغہء امر بنا دیا جائے تو روی با آسانی معلوم ہو سکتا ہے۔ چنانچہ زوائد حذف کرنے پر قوافی یوں ہوں گے
روک، سمیٹ، لے، بکھر، رکھ، جھانک، آ
جن میں روی کا اتحاد نہیں، چنانچہ یہ قافیے درست نہیں ہیں۔​

یہ سب ایطاء جلی کی مثالیں ہیں۔
(جاری)
shakeeb author pic
شکیبؔ احمد از کامٹی، الہند

نام شکیب احمد، وسط ہند سے تعلق ہے... شاعر، ادیب، لیکچرر، اور سافٹویئر انجینئر (وغیرہ) ہوں۔ زندگی میں بس ایک ہی خواہش ہے کہ کچھ ڈھنگ کا کام کر سکوں جو اللہ کے سامنے پیش کرنے لائق ہو۔ باقی آپ جو پوچھنا چاہیں...
مزید پڑھیں ←

بدھ، 17 اکتوبر، 2018

شاعر نہیں، اچھے شاعر بنیے (۲)


 گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔(پچھلی قسط یہاں پڑھیں)

مذاق برطرف! غلط تلفظ کی دو اقسام ہیں۔

۱۔ غلط العوام
۲۔ غلط العام

یہاں بھی ایک بات واضح کرتا چلوں۔ لفظ ”غلط“ کا درست تلفظ  ل مفتوح کے ساتھ ہے(یعنی ل پر زبر)۔ یہ عموماً پنجابی زبان کے اثر کی وجہ سے ہوتا ہے کہ عوام(خصوصاً پاکستانی) اسے غلْط(ل پر سکون) ادا کرتی ہے جو  بالکل درست نہیں۔

عربی میں ایک دلچسپ جملہ ہے۔

اَلْغَلْطُ غَلَطٌ وَالْغَلَطُ صَحِیْحٌ

یعنی غلْط(ل ساکن) غلط ہے اور غلط(ل مفتوح) صحیح ہے۔

خیر! بات ہو رہی تھی غلط العام اور غلط العوام کی۔ زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے سرسری طور پر اس کا ذکر کرتا ہوں۔

❶ غلط العوام وہ الفاظ ہیں جو عموماً غلط ادا کیے جاتے ہیں لیکن انہیں درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خواص ان الفاظ کو درست تلفظ کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ان کو درست تلفظ کے ساتھ رائج کرنے کی ضرورت ہے۔

مثال:
  • مؤقّف(ق مشدد)(غلط)، موقِف(صحیح)
  • بچگانہ(غلط)، بچکانہ(صحیح)
  • سِمت(غلط)، سَمت(س مفتوح یعنی س پر زبر)(صحیح)
  • فوتیدگی(غلط)، وفات/انتقال(صحیح)
  • موقعہ، برقعہ، مصرعہ، مزرعہ (غلط)، موقع، برقع، مصرع، مزرع(صحیح)
  • لا مَتْناہی(غلط)، لا مُتَناہی(صحیح)
  • پسِ منظر(س کے بعد زیر اضافت)(غلط)، پس منظر(صحیح)

حالانکہ اس میں اگر اضافت لگانی ہی ہوتی تو صحیح ترکیب ہوتی ”منظرِ پس“۔ اسے سمجھنے کے لیے ولیؔ کا یہ شعر دیکھیں۔
سحر پرواز ہیں پیا کے نین
ہوش دشمن ہیں خوش ادا کے نین

یہاں ”ہوش دشمن“ یعنی ”دشمنِ ہوش یا ہوش کا دشمن“
چنانچہ  پس منظر میں س کے بعد زیرِ اضافت غلط ہے۔ درست ترکیب پس منظر ہے۔

❷ غلط العام وہ الفاظ ہیں جو غلط ادا کیے جاتے ہیں یا ان کا املا غیر درست ہوتا ہے لیکن انہیں درست کے زمرے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔

مثال:

نِشاط(ن مکسور یعنی ن کے نیچے زیر)(غلط)، نَشاط(ن مفتوح یعنی ن پر زبر)(صحیح)

استعفیٰ(غلط)، استعفا(صحیح)

انہیں/انہوں(غلط)، انھیں/انھوں(صحیح)

بھروسہ/دھوکہ(غلط)، بھروسا/دھوکا(صحیح)

ذمہ داری(غلط)، ذمہ واری(صحیح)

مذکورہ بالا الفاظ کو بغور دیکھیں۔ آپ تقریباً تمام الفاظ  ”غلط“ والے ہی استعمال کرتے ہوں گے اور استعمال ہوتے دیکھے ہوں گے۔ یہ ”غلط“ الفاظ آپ اب بھی  استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ”غلط العام“ ہیں۔ ان میں سے کچھ الفاظ تو ایسے ہیں جو اگر ”صحیح“ کہے جائیں تو لوگ آپ پر چڑھ دوڑیں گے۔ ”ذمہ داری“ اس کی عمدہ مثال ہے۔ (ویسے ہندی حلقوں میں یہ مقبول ہے۔)

چنانچہ جو الفاظ غلط العام ہیں انہیں آپ ”غلط “ استعمال کر سکتے ہیں۔ جب کہ غلط العوام الفاظ میں کسی رعایت کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ عبد اللہ بن جحش کو عبد اللہ بن حجش، عمْرو کو عُمرُو، کَما حقَّہٗ کو کما حَقہ یا بِعینہٖ (بِ عَی نِ ہٖ)کو بَعینہ نہیں پڑھ سکتے۔

یہ صرف جھلکیاں ہیں۔ ورنہ  اصلاح تلفظ کے عنوان سے تو ایک مستقل مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ بشرطِ زندگی و فرصت کوشش رہے گی کہ اس پر بھی کوئی مضمون لکھ سکوں۔ ان شاء اللہ۔

ان غلطیوں کا سد باب کئی طرح سے ممکن ہے۔ ایک اہم اقدام اس سلسلے میں ”اعراب“ کا استعمال ہے۔ یعنی جہاں بھی آپ ایسے الفاظ دیکھیں تو قاری کی سہولت کے لیے اعراب کا استعمال کریں۔  ”سر بکف “ مجلہ میں ، میں  حتی المقدور کوشش کرتا ہوں کہ اس طرح کے الفاظ پر اعراب لگاؤں۔ رسالوں اور جریدوں میں یہ ذمہ داری مدیر کی ہوتی ہے کہ پروف ریڈنگ کے دوران میں وہ اس پر بھی توجہ دے۔ ایک مدیر کی حیثیت سے آپ کو یہ اختیار حاصل ہے، اور میری نظر میں یہ اردو ادب کی خدمت ہے، کہ  اس کے ذریعے غلط تلفظ کا سد باب ہوتا ہے۔

بہر حال! اگر آپ خود کو ”تک بند“ نہیں بلکہ شاعر کہلانا چاہتے ہیں، واقعتاً اپنی شاعری کو شاعری بنانا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ آپ کے کلام کے ذریعے غلط تلفظ کی تبلیغ ہو تو لغت کا استعمال کرنے سے شرمانا چھوڑ دیں۔ جونہی کسی لفظ کے تلفظ کے بارے میں شبہ ہو، فوراً لغت کی طرف رجوع کریں۔ اس سے مذکورہ بالا تمام نقصانات سے بچنے کے علاوہ، سب سے اہم بات یہ کہ  آپ کی محنت ضائع ہونے سے بچ جائے گی۔

ایک بار پھر کہہ دوں!  یقین کریں، وہ شعر جس پر محنت ہوئی ہو، اسے قلم زد کرنا بڑا دردناک ہوتا ہے۔

٭٭٭

مشق عیب نمبر ۱:


۱۔  دس ایسے الفاظ کے درست تلفظ لغت  میں تلاش کیجیے جنھیں آپ غلط ادا کرتے رہے تھے۔

۲۔ پانچ ایسے اشعار تلاش کیجیے جن میں کوئی لفظ غلط تلفظ کے ساتھ باندھا گیا ہو۔ اشعار نہ ملنے پر خود سے مصرع یا اشعار گھڑیں۔

۳۔ مثال نمبر ۳، ۴ اور ۵ میں دیے گئے اشعار میں الفاظ غلط تلفظ کے ساتھ ہیں۔ انہیں الفاظ کو یوں استعمال کیجیے کہ ان کا تلفظ بھی درست ہو جائے اور شعر کے  معنی اور وزن بھی قائم رہیں۔

۴۔ کچھ ایسے الفاظ درج کیجیے جنہیں آپ پہلے غلط ادا کرتے رہے ہوں، اور کسی شعر کے ذریعے اس لفظ کے صحیح تلفظ سے آگاہ ہوئے ہوں۔

۵۔مندرجہ ذیل شعر میں کس لفظ کا تلفظ غلط باندھا گیا ہے؟ شعر کو اس طرح بدلیں کہ لفظ  درست تلفظ کے ساتھ  آ جائے اور وزن بھی قائم رہے۔ نیز اردو قواعد کے لحاظ سے بھی شعر میں کوئی غلطی نہ پیدا ہو۔
ایک، دو، تین، چار، پانچ نہیں
میری ساری خطائیں معاف کرو

(وزن: فاعلاتن مفاعلن فعلن)

نوٹ: مشق کے جوابات عاجز کے فیس بک، ای میل یا بلاگ پر کمنٹ کر کے بھی ارسال کیے جا سکتے ہیں۔

shakeeb author pic
شکیبؔ احمد از کامٹی، الہند

نام شکیب احمد، وسط ہند سے تعلق ہے... شاعر، ادیب، لیکچرر، اور سافٹویئر انجینئر (وغیرہ) ہوں۔ زندگی میں بس ایک ہی خواہش ہے کہ کچھ ڈھنگ کا کام کر سکوں جو اللہ کے سامنے پیش کرنے لائق ہو۔ باقی آپ جو پوچھنا چاہیں...
مزید پڑھیں ←

ناموں کا انقلاب



خبر ملی کہ الہ باد کا نام بدل کر ”پریگیہ راج“ رکھ دیا گیا ہے۔ مجھے تین سال پہلے کا لکھا اپنا یہ آرٹیکل یاد آگیا جو ”اورنگ زیب روڈ“ کا نام بدلنے پر لکھا گیا تھا۔ روڈ کا انقلاب اب ناموں کا انقلاب ہو گیا ہے۔ خوب وکاس ہو رہا ہے۔ (شکیبؔ)

روڈ کا انقلاب... Road Revolution

✍مدیرکے قلم سے


جی ہاں! محترم پرائم منسٹر نریندر مودی صاحب ایک انقلابی شخصیت ہیں۔ اُن کی شخصیت کا ایک ایک حصہ انقلابی ہے۔ اُن کا ذہن اور سوچ تو اس قدر انقلابی ہے کہ انقلاب برپا کرنے کےایسے  انقلابی طریقے صرف وہی سوچ سکتے ہیں۔

ہم نے آج تک صرف انقلاب کی باتیں سنی تھیں، یا تاریخ میں پڑھا تھا، لیکن آج دیکھ لیا کہ انقلاب کسے کہتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ انقلاب بدلاؤ کو کہتے ہیں۔ چنانچہ یہ انقلاب یوں آیا کہ دہلی میں ابو المظفر محی الدین محمد   اورنگ زیبؒؒ روڈ کو اے پی جے عبد الکلام روڈ  کا نام دے دیا گیا۔ایسے بدلاؤ کی باتیں ہم جیسے عام  آدمیوں کے ذہن نہیں سوچ سکتے، یہ وہی سوچ سکتے ہیں جنہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔

انقلابی جو ٹھہرے...

   مرکز اور دہلی سرکار کے اشتراک سے چلنے والی این ڈی ایم سی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں یہ فیصلہ لے لیا گیا کہ ہندوستان میں نفرت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے چھٹے مغل شہنشاہ کی جگہ رحم دل اور انسان دوست سابق صدر عبد الکلام کو دے دی جائے۔ادھر یہ خوشخبری ملی، اور بے جے پی کے لیڈروں نے اس "کمال " کا سہرا اپنے سر باندھنا شروع کردیا۔ ممبر آف پارلیمنٹ مہیش گری نے فرطِ مسرت کے ساتھ کہا کہ میں نے ہی نریندر مودی جی کو اس سلسلہ میں خط لکھا تھا۔ ایک اور میڈم میناکشی لیکھی کہتی ہیں میں نے تجویز پیش کی تھی۔ عام آدمی پارٹی کے روحِ رواں اروند کیجریوال کہتے ہیں یہ ہمارا چلایا ہوا موومینٹ ہے۔

سبحان اللہ! بی جے پی زندہ باد۔ نریندر مودی زندہ باد۔
پیارے جشن منانے والو! ایک بات فقیر کی یاد رکھنا... بھیڑ کبھی تاریخ نہیں لکھ سکتی۔ تاریخ ایک ایسی ٹھوس حقیقت ہے جس پر دانت نکوسنے کے لیے پوری بی جے پی کو دانتوں تلے پسینہ بھی آجائے گا اور وہ کھٹے بھی ہوجائیں گے۔ کیونکہ اورنگ زیبؒ ایک سچائی کا نام ہے...ایک ایسی سچائی جس نے سب سے زیادہ ہندوستان پر حکومت کی...جس نے ملک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنا دیا...جس نے سلطنت کی توسیع میں ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کا حصہ شامل کیا...

    ہاں مجھے پتہ ہے یہاں کے اسکولوں کے نصاب میں  اورنگ زیبؒ کی وہی تاریخ بتائی جاتی ہے جو انگریز انہیں سکھا کر گئے تھے...الزام یہ کہ شاہجہاں کو قید کردیا تھا...الزام یہ کہ ہندوؤں سے جزیہ وصول کرتا تھا٭... الزام یہ کہ مندروں کو مسمار کیا، الزام یہ کہ سکھوں کے گرو تیغ بہادر کا سرکاٹ کر اس کے بیٹے کو تحفے میں دیا...الزام یہ کہ تعصب کی حکومت کی...

واللہ میرے پیارو! کچھ تو شرم کرو...یہ الزامات ہی سچ ہیں تو بھلا وہ پرنور چہرے والا  ،متقی ،عبادت گزار،،انصاف پسند، علماء و مشائخ کی انتہائی قدر کرنے والا کون سا  اورنگ زیبؒ تھا؟ کون اولیاء اللہ کی خدمت میں بادشاہ ہونے کے باوجود یوں حاضر ہوا کرتا تھا گویا کہ میں کچھ نہیں، میرا کچھ نہیں۔

ذرا مجھے بھی تو بتاؤ وہ کون سا  اورنگ زیبؒ تھا جو کتابت کرکے اپنی روزی کماتا تھا؟  تم نے کسی بادشاہ کو اس حال میں دیکھا ہے؟ کس دلیل پر کہتے ہو وہ ظالم تھا؟ اُس تاریخ کے بل بوتے پر جسے انگریزوں نے مرتب کیا تھا؟ تعصب کی حکومت ہوتی تو ۴۹ سال کی حکمرانی میں یہاں ایک بھی ہندو باقی رہتا؟ تاریخ کا ایک ایک حرف گواہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے نہایت عدل و انصاف سے حکومت کی ہے۔

ایک دن ایسے ہی بات چل پڑی، تو میرے بھانجے نے اس سلسلے میں کچھ گوہر افشانیاں کیں... اورنگ زیب ؒکی ساری تاریخ (جو ہمارے ہاں اسکولوں میں پڑھائی جاتی ہے) بتانے لگا۔یہ کیا اور وہ کیا، باپ کو قید کردیا، اتنا ظلم کیا وغیرہ وغیرہ۔ میں نے اسے سمجھایا کہ یار یہ تاریخ لکھنے والے مسلم نہیں، یہ وہ ہیں جو ہمیشہ ہماری تاریخ کو مسخ کرکے خوش ہوتے ہیں۔ اورنگ زیبؒ کے ظلم کی داستان ساری جھوٹی ہے۔ کافی سارے حوالے اور واقعات کے باوجود وہ پس و پیش میں ہی رہا، اور اپنی کتاب میں پڑھے ہوئے سبق کو حرفِ آخر سمجھتا رہا۔

اب اس تاریخ کو پڑھنے والوں کو ہم کیسے قائل کریں کہ  وہ  اورنگ زیبؒ نہیں... اورنگ زیب رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔
تاریخ پر ڈاکہ ڈالنے والو!وائے حیرت کہ اپنے جرم پر  جشن بھی منارہے ہو؟؟؟
تم نے تو جشن منانے  کے موقع و محل کو بھی بدل ڈالا!!!

کیوں نہ بدلتے!انقلابی جو ٹھہرے...

اچھا، ویسے یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ مسلمانوں کو بہلانے کے لیے روڈ کا نام بھی بدلا تو ایک مسلم کے نام پر، تاکہ احتجاج نہ ہو۔ ایم آئی ایم کے روحِ رواں  اسد الدین اویسی نے بھی اس پر ردِّ عمل کا اظہار کیا ہے...کئی سارے قسم کے ٹائمز،  اخبارات،ای نیوز  منجملہ وکی پیڈیا پر بھی اس controversy کا اندراج ہوچکا ہے۔

لوجی۔ اگر مرحوم اے پی جی عبد الکلام کے لیے ہی کچھ کرنا تھا تو کسی نئی روڈ کا نام اُن کے نام پر رکھ دیتے...کوئی یونیورسٹی ، اسکول، کالج اُن کے نام پر شروع کرتے...کوئی فری شپ یا اسکالر شپ اپ کے نام پر شروع کرتے...لیکن نہیں! ہم تو مرحوم صدر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے روڈ کا نام بدلیں گے...

بدلو بھائی بدلو...

آج  اورنگ زیبؒ نشانہ ہے، کل اورنگ آباد کا نام بھی بدلو گے؟ تاج محل کی تاریخ بھی بدلو گے؟ لال قلعہ کا کیا کرو گے آپ؟چار مینار کی ہسڑی کہاں چھپاؤ گے؟ قطب مینار کی تاریخ کہاں دفن کروگے؟ گول گنبد کیوں چھوڑ رکھا ہے؟ فتح پور سیکری بھی تو ہے...جلدی کرو بھائی سب بدلتے چلے جاؤ...چینج کردو...بدل دو...
تم......انقلابی جو ٹھہرے...

(فقیر)  شکیبؔ احمدعفی عنہٗ
بروز جمعہ،٩:٢٠بجے صبح
بحوالہ: "سربکف" میگزین 2-ستمبر، اکتوبر 2015
shakeeb author pic
شکیبؔ احمد از کامٹی، الہند

نام شکیب احمد، وسط ہند سے تعلق ہے... شاعر، ادیب، لیکچرر، اور سافٹویئر انجینئر (وغیرہ) ہوں۔ زندگی میں بس ایک ہی خواہش ہے کہ کچھ ڈھنگ کا کام کر سکوں جو اللہ کے سامنے پیش کرنے لائق ہو۔ باقی آپ جو پوچھنا چاہیں...
مزید پڑھیں ←