ایک خط ابنِ صفی کے نام

 یہ خط فیس بک گروپ "دی گریٹ ابن صفی فینز کلب" کے زیرِ اہتمام خطوط کے مقابلے میں لکھا گیا تھا۔ عزیزم واصل حسینی نے بڑی محبت سے اصرار کیا تو وہ بات لکھ ہی ماری جو ابن صفی کے ناول پڑھتے ہوئے ہمیشہ سے ذہن میں گھومتی تھی۔ 

خط پڑھ کر ابن صفی مرحوم کے فرزند احمد صفی صاحب نے یہ تبصرہ کیا تھا، ”منفرد اور برجستہ۔۔۔ اس نے کئی خطوں کی یاد دلا دی۔“

خط پر احباب کے تبصرے اور تاثرات پڑھنے، نیز مقابلے کا نتیجہ دیکھنے کے لیے یہاں جائیں۔

تحریر: 30 مارچ 2019، اشاعت: 7 اپریل 2019

نوٹ: خط کا متن سو فیصد فکشنل ہے۔ 

— شکیب

ایک خط ابنِ صفی کے نام

جناب ابنِ صفی صاحب!

بعد از سلام عرض ہے کہ آپ جیسے لوگ اپنے پیش رسوں میں کاغذ کا رونا روتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔ تھوک کے بھاؤ میں خط لکھ لکھ کر بھیجے ہیں کہ شاید کسی پیشرس میں میرا بھی ذکر آ جائے لیکن کوئی کاہے کو سنتا ہے۔ ایک ڈیڑھ صفحے کا پیشرس اور اس میں بھی پابندی سے ایک پیراگراف کاغذ کے نام۔

خیر، یہ تو مبالغہ ہو گیا۔ ویسے میرا ذکر کوئی اتنا ضروری بھی نہیں۔ یہ خط اس لیے لکھ رہا ہوں تا کہ یہ کاغذ والا بہانہ رفع کر دوں۔ میرے منجھلے سالے کا پرنٹنگ پریس کا کام ہے۔ میں نے اسے آپ کا ایک ناول تھما کر پریشانی کا ذکر کیا تو اس نے ناول کے حجم کو پرکھ کر اور کاغذ کے خاصے پوسٹ مارٹم کے بعد کچھ باتیں ذکر کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے ذاتی اثر و رسوخ سے آپ کے لیے بہت کم داموں اچھی کوالٹی کا کاغذ دستیاب ہو سکتا ہے۔  نرخ والی پرچی خط کے ساتھ ہی بھیج رہا ہوں۔ 

اب دیکھیے، فائدہ تو اس میں ہمارا ہی ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ کا ذہن بغیر روک ٹوک کے تخیل کے گھوڑے دوڑائے گا اور ہم جھولی پھیلا پھیلا کر آپ کے لیے دعائیں کریں گے۔

میرے جیسے قاری تو ناول ختم کر کے بھی یہی سوچ کر مغموم ہو جاتے ہیں کہ کیا پتہ آپ بیس تیس صفحات آگے تھریسیا کو مشرف بہ اسلام کر کے عمران سے نکاح پڑھانے کا سوچے بیٹھے ہوں اور کاغذ کی قلت آڑے آ گئی ہو۔۔۔ یا فریدی کو سگار کے دھوئیں میں "غ"  بنتا دکھا کر داراب نگر روانہ کرنے والے ہوں مگر مجبوراً "حمید نے ٹھنڈی سانس لی اور خلا میں گھورنے لگا" پر ناول ختم کرنا پڑا ہو۔

والسلام

تبصرے

شکیبؔ احمد

بلاگر | ڈیویلپر | ادیب از کامٹی، الہند

مشہور اشاعتیں

نگہِ من - میرا فلسفہ

میری شاعری