تبصرۂ کتب: لاہور سے تاخاکِ بخارا و سمرقند۔ از ذوالفقار احمد نقشبندی

نام کتاب:  لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند

مصنف: پیر ذوالفقار احمد نقشبندی

زمرہ: مذہب، سفرنامہ

زبان: اردو

تاریخ پیش لفظ: 23 مارچ، 2000ء

صفحات: 294


کتاب کا نام اقبال کے ایک مشہور شعر سے لیا گیا ہے۔ [1]  اکثر ایڈیشنز میں کتاب کی فہرست کے بعد یہ دو اشعار بھی درج ہیں تاکہ بھوندو لوگوں کو پتہ چل جائے کہ کتاب کا عنوان ایک ”مصرع“ ہے، ایویں ہی کوئی تین شہروں کے نام نہیں لکھ دیے گئے۔


میں بندۂ ناداں ہوں، مگر شُکر ہے تیرا
رکھتا ہوں نہاں خانۂ لاہُوت سے پیوند
اک ولولۂ تازہ دیا مَیں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند


تعارف مصنف

مصنف وہ ہیں جنہیں  "سنتِ نبوی اور جدید سائنس"   کے مصنف حکیم طارق چغتائی جگہ جگہ ”قبلہ انجینئر نقشبندی“ کہہ کر ذکر کرتے ہیں۔ کوئی ایک دو سال پہلے کسی نے  واٹس ایپ پر آپ کی  مکمل کوالیفیکیشنز  ارسال کی تھیں۔ تلاش بسیار کے بعد البتہ یہ مختصر سوانح جناب ندیم الواجدی کے الفاظ میں ملی ہے  جو یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔ [2]

Lahore Se Ta Khaak e Bukhara wa Samarqand


تبصرہ

میری زندگی پر کچھ ادوار گزرے ہیں، راستے بدلنے کا ذریعہ کچھ کتابیں بنیں جو گھر پر یونہی ادھر ادھر رکھی ہوئی نظر آتی رہتی تھیں۔ کتابیں چاٹنے کے شوق نے پڑھنے پر مجبور کر دیا۔ مینٹلٹی میں دین کو راسخ کرنے کا پہلا ذریعہ یہی کتابیں بنیں۔ ان میں سے ایک تھی  یہ سفرنامہ!


بڑے سادے انداز میں لکھا گیا سفرنامہ ہے۔ زبان کا سلیس ہونا اختیاری ہے، جیسا کہ پیش لفظ میں ذکر ہے کہ پانچویں جماعت کا طالب علم بھی اسے پڑھ کر فائدہ حاصل کر سکے۔ البتہ بیان لطافت سے پُر ہے۔ واقعات در واقعات پڑھنے والے کو جکڑے رکھتےہیں۔ بیانیے کا تسلسل سحر خیز ہے اور روحانیت گویا تحریر سے چھلکی پڑتی ہے۔ پہلی بار جب اس کا مطالعہ کیا تھا تب میں آٹھویں یا نویں جماعت میں تھا۔ یہ کتاب میری زندگی بدلنے کی وجہ بنی چنانچہ اپنے اس تبصرہ کتاب کے سلسلے آغاز اسی سے کر رہا ہوں۔ 


اچھا، یہی وجہ کیوں بنی؟ یہ پہلی کتاب تو نہیں تھی جو میں نے حضرت کی پڑھی تھی، اس سے قبل دوائے دل اور سکونِ دل پڑھ چکا تھا، اگرچہ وہ بیانات تھے مگر تعارف تو ہو ہی چکا تھا۔ 


بنیادی چیز اس کی یہ تھی کہ میں اس میں  ان کی کم عمری سے متاثر تھا، اور اسی عمر سے اس سنجیدگی اور ”کچھ کرنے“ کی تڑپ نے کیسے ان کے لیے راستے آسان کیے، یہ چیز میرے ذہن میں کھب گئی تھی۔ کتاب میں مذکور ”ہیرے“ بھی بڑے عجیب اور انسپائرنگ تھے۔ میں نے جب بھی کتاب پڑھی یہ سوال  ضرور کیا کہ  اگر میں وہاں ہوتا تو کیا ان "ہیروں" میں شمار کیا جاتا؟ ہر مرتبہ دل سے کورا جواب آیا کہ نہیں۔ 


دوسری اہم وجہ اشعار کا برمحل استعمال۔ اللہ اللہ! یہ تو آپ کتاب پڑھیں تبھی پتہ چلے گا۔ اور چونکہ میری طبیعت کو شروع ہی سے شعر و شاعری سے مناسبت رہی ہے، سو یہ میرے لیے سوغات تھی۔ 


اور سب سے بڑھ کر از دل خیزد بر دل ریزد والی ہی بات ہے۔ اوپر میں نے  ندیم الواجدی صاحب کے مضمون کا حوالہ دیا ہے، اسی کا اقتباس نقل کر رہا ہوں:

 تقریریں تو بہت لوگ کرتے ہیں ، گھنٹوں گھنٹوں کرتے ہیں، الفاظ کا سماں باندھ دیتے ہیں لیکن جب لوگ مجلسوں سے اٹھتے ہیں تو ان کے پلے کچھ بھی نہیں ہوتا ، جیسے آئے تھے ویسے ہی رخصت ہوجاتے ہیں۔ حضرت پیر صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ عام سی، سادہ سی باتیں اس سوز کے ساتھ کرتے ہیں کہ دل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔


ویسے میں نے ایک بات اور نوٹ کی کہ پہلے میں (یا ہم سب؟) بڑا غرق ہو کر مطالعہ کرتے تھے۔ مذکورہ کتاب میں نے کوئی تین بار پڑھی ہے،  دو بار اچھی طرح سے اور تیسری بار رواروی میں۔  اور ایسے بہت بار پڑھی جانے والی بہت سی کتابیں  ہیں۔ ابنِ صفی کے ناولوں ہی کو لے لو۔ عمران سیریز کی "گمشدہ شہزادی" تو چونکہ ہارڈ کاپی میں واحد کتاب تھی، اسے تواتر سے بے شمار بار  چاٹا ہے، لیکن   اس کتاب کے تو اگلے جملے جیسے پہلے سے ذہن میں ہوتے ہیں۔ کسی خواب کی سی کیفیت میں لگتی ہے۔ اب پتہ نہیں یہ ”مطالعۂ غارق“ کا اثر ہے یا  اس کے تعددِ استعمال کا (یاد پڑتا ہے کہ کتاب کے جملوں اور تراکیب کو اردو کے مضامین میں اور دوست کو لکھے جانے والے خطوط میں بہت استعمال کیا تھا۔)


خیر! اگر آپ کو تصوف سے دلچسپی ہے اور عشقِ حقیقی کا اثر جاننا چاہتے ہیں یا ویسے ہی  روس  اور وسطِ ایشیاء کی آزاد ریاستیں گھومنے اور تاریخی مقامات دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں، تو یہ کتاب پڑھیں۔ آنکھیں روشن ہو جائیں گی اور دل  عقیدت و محبت سے لبریز  ہو جائے گا۔ 


اور اگر آپ کو تصوف سے  خدا واسطے کا بیر ہے، تب تو یہ کتاب ضرور پڑھیں۔ ڈھونگی باباؤں والے تصوف اور اصل تصوف میں فرق سمجھ جائیں گے۔


یہ کتاب کہاں ملے گی؟

کسی بھی دینی مکتبے سے مل جائے گی۔ آسانی کے لیے پہلے فون کر کے پوچھ لیں۔ 

آن لائن منگوانا چاہتے ہوں تو امیزان پر دستیاب ہے۔ 


سافٹ کاپی المعروف بہ پی ڈی ایف کے متلاشی گوگل پر یوں تلاش کر لیں:

Lahore Se Ta Khaak e Bukhara wa Samarqand - By Peer Zulfiqar Naqshbandi


حوالہ جات

[1] نظم ”شکر و شکایت“ ، ضربِ کلیم، از محمد اقبالؒ

[2] پیر ذوالفقار احمد نقشبندی۔مختصر و جامع سوانح حیات، از ندیم الواجدی، صدائے وقت ڈاٹ کام [ربط]

تبصرے

مشہور اشاعتیں