انوکھی خواہش (نظم) - شکیبؔ احمد

خواہشیں تو بہت ہیں
مگر ایک خواہش مری کچھ انوکھی سی ہے
سن ذرا
جب بھی بھوکا ہوں میں
جانِ من تجھ کو آواز دوں
پیٹ پر ہاتھ پھیروں
میں بیچارگی سے تری سمت دیکھوں اشارہ کروں
اور جوابا تو ہنس کر کچن کو لپک
اور پھر
دال میں بھات کو ڈال کر
میرے پاس آ کے بیٹھ
اپنے ہاتھوں سے پھر
مجھ کو لقمے کھلا
اور اتنا کھلا
ختم ہو جائے سب
دیگچے میں ترے واسطے پھر نہ کچھ بھی بچے
منہ بسورے ہوئے پھر تو اٹھ
فون اٹھا
اور زومیٹو سے آرڈر کر اک اشتہا خیز ڈش
اور بالآخر وہ جب آ چکے
مجھ کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے بیٹھ جا
خوب کھا
٭٭٭

15 فروری، 2020
(قافیہ ایکسپرٹ کی ایپ بناتے وقت "بیاض" کی فیچر کو ٹیسٹ کرتے ہوئے فی البدیہہ  کہی گئی۔)
نوٹ:  شاعر کو دال چاول واقعی پسند ہے۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں

نگہِ من - میرا فلسفہ

میری شاعری