الیکشن کے بعد مسلمانانِ ہند سے چند گذارشات

(جمعیت علمائے ہند و دیگر تنظیموں کے مصالحتی اقدام پر تنقید کے سلسلے میں)

✍ شکیب احمد

جمعیت علمائے ہند کی جانب سے مودی کو خط کے ذریعے اچھے انداز میں ان کے سب کا ساتھ سب کا وکاس، اور اقلیتوں کے ساتھ کیے وعدے یاد دلائے گئے ہیں۔ اس کے متعلق سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں صاحب تحریر اسے بزدلی قرار دے کر "علماء" کو شرم دلانے کی کوشش کر رہے تھے۔

جبکہ اگر آپ سنجیدگی سے سوچیں تو یہ ایک بہترین قدم ہے۔

علماء گھاس کھا کے نہیں بیٹھے، سوچ سمجھ کر کام کر رہے ہیں۔

یہ لائحۂ عمل ہے، منت سماجت نہیں۔ امید ہے اس سے ٹینشن کے ماحول کی بجائے ریلیکس ماحول بنے گا اور ان شاءاللہ اس میں غیر مسلموں تک امت کا غم لے کر اسلام کا پیغام پہنچانا آسان ہوگا۔ آئندہ دنوں میں میرا منظم انداز میں دعوت و تبلیغ کا ارادہ ہے۔ آپ تمام بھی عام غیر مسلموں تک پیار محبت کے ساتھ اسلام کا پیغام پہنچائیے۔ کچھ بعید نہیں کہ یہ پانچ سالہ عرصہ انقلاب برپا کر دے۔

دنیا میں ہر چوتھا فرد مسلمان ہے۔ یعنی ایک آدمی کے ذمے تین کو دعوت دینا ہے۔ البتہ ہندوستان میں یہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔

آپ لوگ مولانا کلیم صدیقی صاحب، سجاد نعمانی صاحب اور مقامی مشائخ وغیرہ کے بیانات سنتے رہیں۔ علماء سب ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں، انہیں بے وقوف نہ سمجھیں۔

جذبات بھڑکا کر دنگے کروانا (عوام میں سے) کوئی نہیں چاہتا۔ سوشل میڈیا پر"علماء" کے اقدام پر تنقید کرنے کی بجائے مقامی علماء سے رجوع کرتے رہیں۔ وہ ہر بات کا شافی جواب دیں گے ان شاء اللہ۔

برادرانہ مشورہ

اور دھیان رہے! کسی بھی عالم کے تعلق سے دل میں تحقیر نہ آنے پائے۔ یہ ایمان کے لیے خطرناک ہے۔(حقارت غیر ارادی طور پر آتی ہے۔)

اللہ حامی و ناصر ہو۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں